میرے بارے میں

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی خالد


چھوتدار مرض ہے'بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور:وطن عزیزمیں برسات 'لوڈ شیڈنگ'شدید گرمی'حبس اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے لاہور سمیت دیگرکئی شہر وں میں بھی آشوب چشم کی وبا پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے' بڑے'مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم طویل دورانئے کی لوڈ شیڈنگ اور شدید مرطوب گرمی بھی آشوب چشم کی وباء پھیلانے کااہم سبب ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں 'خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہویا عرق گلاب سے تیار کی گئی ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی'حبس اور بارش کے بعد آلودہ پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس زیادہ نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے'رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پرہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میںمندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سترہ رمضان...یوم الفرقان:نزول قرآن اور غزوہ بدر کادن

سترہ رمضان المبارک تمام دنیائے انسانیت اور مسلم امہ کےلیےانتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن نزول قرآن کی ابتدا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کہ جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالی نے اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔

 جبکہ رمضان المبارک کی سترہ ١٧ تاریخ کو غزوہ بدر کا واقعہ بھی ہوا جو تاریخ اسلام کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کےافق پر توحید کامل کا آفتاب پورے عالم پر ہمیشہ کےلیےطلوع ہوگیا اسی لیےقرآن مجید نےغزوہ بدر کا نام یوم الفرقان یعنی فیصلےکا دن رکھا ہےکہ وہ آخری فیصلہ کا دن تھا۔یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔امت مسلمہ کو غزوہ بدر کےحقائق اور تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیےاور اس کےمقاصد اور نصب العین کو چراغ راہ بنانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ایک صحت مند معاشرے کےلئے۔۔۔۔ ہمیں احتجاجی طریق کار ہر صورت بدلنا ہوں گے۔


 ماحولیاتی آلودگی'کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
 ٹائر جلانے سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز وجود میں آتے ہیں: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

 ماحولیاتی آلودگی'دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے۔ گاڑیوں کے دھویں سے خارج ہونے والاکاربن مونو آکسائیڈ'سیسہ 'نائٹروجن اور سلفر آکسائیڈ'سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر'ہسپتالوں کا کچرا 'سرنجیں'استعمال شدہ بوتلیں'مضرِصحت کیمیائی کچرا'چمڑے کی فیکٹریوں کی آلودگی 'کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں خاص طور پر احتجاج کے موقع پر ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے ہائڈروکاربن اور دیگر کیمیکلز وجود میں آتے ہیںجو آنکھوں 'ناک' گلے اور پھیپھڑوں کے متعدد امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کا سبب بھی بنتے ہیں۔ٹائر جلانے سے نہ تو لوڈشیڈنگ میں فرق پڑاہے نہ کشمیر آزاد ہو جائے گانہ ہی اس سے معصوم فلسطینیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا اظہار ہے البتہ اس اقدام سے ہم اپنے ہی لوگوں کو ضرور نقصان پہنچاتے ہیں۔احتجاج کی افادیت اور ضرورت سے کسی طور انکار ممکن نہیں زندہ قومیں احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن ہمیں اپنے معصوم بچوں اور بڑوں کی صحت کیلئے احتجاجی طریق کار بدلنا ہوں گے۔معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیں بلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔صحت مند پاکستانی معاشرے کیلئے طبی ایسوسی ایشنوں اوردیگرتمام این جی اوز کو بھی کینسر کے بارے میں آگہی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعوربیدارکرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ #
( ''ہیلتھ پاک'' کے زیر اہتمام کینسراور ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں شعور و آگہی مہم کے حوالے سے منعقدہ ایک مجلس مذاکرہ سے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کا خطاب)

٭…٭…٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد


سوتی ملبوسات استعمال کریں'پانی ابال کر پیئں'لیموں پانی اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں
سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے :کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


لاہور22مئی: اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا'بھوک کی کمی 'سردرد'صفراوی بخار'گھبراہٹ 'خفقان' ٹائیفائڈ'پھوڑے پھنسیاں'ہیپاٹائٹس 'یرقان 'گیسٹرو'ہیضہ' اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی'بزوری 'صندل' فالسہ اور نیلوفر کا شربت 'لیموں پانی' تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی 'نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان'' موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ 'تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی 'گیسٹرو'اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔



سوشل میڈیا پر ایک اسٹیٹس کے جواب پر مختصر مکالمہ ہوا پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ اپنا اظہار خیال ۔۔۔۔۔نذر قارئین
ہے۔۔
Hakim Khalid
بلاگنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا۔۔۔۔کی خوبصورتی اور طاقت۔۔۔۔۔غیر منظم اور انفرادی سوچوں کے اظہار میں ہی پنہاں ہے۔۔۔۔۔۔اسے منظم کرنے والے کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں ۔۔پاکستان میں۔۔۔اس حوالہ سے" غیر منظم ہونے کی خاصیت کا ختم ہونا" ۔۔۔۔۔۔ان جدید صحافتی اصناف کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Fahad Kehar
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن ہم کسی تنظیمی یا ضابطہ اخلاق کے بندھن میں نہیں باندھ رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک پلیٹ فارم بنائیں جو بلاگنگ اور سوشل میڈيا میں اردو استعمال کرنے والوں کے لیے کارآمد ہو۔

Hakim Khalid
اپنے بلاگ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز۔۔۔۔۔ کیا کم ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد بھائی
جس طرح بعض افراد ۔۔۔۔۔ لوگوں کے انگلش کے الفاظ درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح اب اردو کی املاء درست کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔جبکہ الفاظ کے اندر چھپے۔۔۔۔۔۔ مفہوم کا ادراک کیا جاتا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔اعلی اردو دانی ۔۔۔۔۔اظہار رائے کےلئے ضروری نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاط بھی بہت اچھا پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو معاشرے کےلئے اہم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
حکیم صاحب، گویا آپ کا کہنا ہے کہ الٹی سیدھی جیسی تیسی اردو لکھی جا رہی ہے تو لکھی جاتی رہے، اس کی درستی کی ضرورت نہیں ہے؟

Hakim Khalid
جی بالکل ۔۔۔۔۔عمار بھائی۔۔۔۔اظہاررائے کو اردو دانی کے قواعدوضوابط کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اردو میں ایک وسعت ہے۔۔۔اور یہ کئی زبانوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ زبان پرانے الفاظ متروک کرکے۔۔۔۔۔۔ نئے الفاظ خواہ وہ کسی بھی زبان سے متعلقہ ہوں ۔۔۔(آپ کے نا چاہتے ہوئے بھی) محفوظ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں روک سکتے ۔دہلی کی اردو۔۔۔۔۔الہ آباد کی اردو۔۔۔۔۔کو آپ موجودہ دور میں مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
بات دہلی کی اردو اور لکھنو کی اردو کی نہیں ہے۔ اگر میں قواعد و انشا سے بے پروا ہوکر اردو لکھنے لگوں تو آپ میرا پیغام سمجھ بھی نہ سکیں۔ کسی کے لیے کہی گئی بات کو اپنے اوپر منطبق کرلیں۔ اور بات تو وہی اثر رکھتی ہے جو عمدہ پیرائے میں کہی گئی ہو۔ اب کوئی یہ اعتراض کر دے کہ بیمار افراد بھی اس کائنات کا حسن ہیں اور ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے، آپ کون ہوتے ہیں جو ان کا علاج کریں تو بتائیے کیسا لغو اعتراض مانا جائے گا۔ سیکھنے کا عمل زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ جس نے سیکھنا ہو سیکھ لے، جو نہ چاہے نہ سیکھے۔

Hakim Khalid
یہی وجہ ہے کہ ایک سطحی تعلیم کے حامل رپورٹر کی۔۔۔۔۔۔ رپورٹنگ حالا ت و واقعات کی آگاہی کے حوالہ سے۔۔۔۔ انتہائی بہتر اور زیادہ پر اثرہوتی ہے۔۔(حالانکہ بعض اوقات اس کے الفاظ پر ہنسی آتی ہے)۔۔۔بہ نسبت ماس کمیونی کیشن ماسٹر یا اعلی تعلم یافتہ کے۔۔۔۔۔۔جو الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں اصل واقعات کی ہو بہو عکاسی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار رائے کو کسی بھی قسم کے قواعدو ضوابط میں منضبط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض امراض میں ۔۔۔۔۔۔۔علاج کے حوالہ سے زبردستی۔۔۔۔۔اور مریض کو گھر کے ماحول سے ۔۔۔۔۔۔ہسپتال لا پھینکنا۔۔۔ اسے مزید بیمار کر دیتاہے۔۔۔اور اسے ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں جکڑ کر اسے وقت سے پہلے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکھنا ہی اگر ہو تو دوسروں کی کم علمی ٗجہل اورغلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

Ammar IbneZia
بہرحال، اپنی اپنی رائے ہے۔ اور یہ رائے کا ایسا اختلاف نہیں جس سے دلوں میں کدورتیں پیدا ہوں۔

  دلوں میں کدورتیں پیدا نہ ہوں اس لئے ہم جزوی اتفاق کرلیتے ہیں کہ اردو قواعدو انشاء کے قوانین کو مدنطر رکھتے ہوئے تحریر لکھی جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس اصول کا نفاذ صرف اخبارات کے ادارتی شعبہ تک ہی محدود ہو (جو پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں)۔۔۔۔۔۔۔لیکن عام رپورٹنگ ۔۔۔۔بلاگنگ ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس کی پابندی لازم نہین۔۔کیونکہ۔۔۔صرف اینگلینڈ اور عرب اسٹیٹس کے کچھ بلاگرز ہوں گے جو اپنی تحریروں میں اپنی زبان کی گرائمر کا خیال رکھتے ہوں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دنیا بھر کے بلاگرز کی تحریریں اپنے آپ کو قواعدو انشاء کے اصولوں میں مقید نہیں کرتیں۔۔۔۔۔لہذا یہ اصول صرف اردو بلاگرز پر ہی کیوں لاگو ہو۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس سے ہمارے محترم بلاگرز کی تحریروں میں "بلاگیاں شلاگیاں " ختم ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔۔سنجیدگی اچھی بات ہے لیکن انسان غیر سنجیدگی سے جو کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔سنجیدگی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے محترم اردو بلاگرز اردو قواعدو انشاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی تحریروں میں پنجابی ،سندھی، بلوچی، پشتو ،کشمیری سمیت متعدد زبانوں اور بعض اوقات خود ساختہ زبانوں کے الفاظ کا "تڑکا" لگاتے ہیں تو "ریسیپی" بہترین بنتی ہے۔۔۔۔اور سب کو پسند بھی آتی ہے۔۔۔یہی حال اردو داں سیاست دانوں کا ہے جو اینگلینڈ میں بیٹھ کر اپنی اردو تقریر میں جب پنجابی بھڑکیں لگاتے ہیں تو عوام بہت محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی صرف ایک پنجابی بھڑک پوری تقریر کو یاد رکھنے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔مختصراً یہ کہ غیر سنجیدگی کے پیچھے جو سنجیدہ پیغام چھپا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے قارئین اسے بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ اب اخبارات کی غیر سنجیدہ اور حقیقت سے کسی حد تک دور "سرخیاں" (جس کا سمٹ میں برا منایا گیا)عوام الناس کو زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور وہ پوری خبر پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔۔(یہ طریقہ "اردو پوائنٹ" سمیت متعدد سائٹس نے بھی اپنایا ۔۔۔۔اور اپنی ویب سائٹ تک قارئین کو لانے میں بہت حد تک کامیاب ہین۔)

سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی تحریریں ۔۔۔۔آزاد ہوتی ہیں۔۔۔۔۔انہیں آزاد ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔جہاں انسانیت کا استحصال ہو رہا ہو ۔۔۔۔وہاں زبانوں کا استحصال ایک بے معنی اور ضمنی سی چیز ہے۔۔۔۔عجیب اردوداں دانشور ہیں کہتے ہیں زباں بگڑی تو شخصیت بگڑ جاتی ہے ۔۔میں کہتا ہوں کہ معاشرہ بگڑنے پہ تو معترض نہین یہ دانشور ۔۔۔۔اور زباں بگڑنے پر کس قدر نوحہ کناں ہیں۔۔۔جب معاشرے کے بگاڑ کے بارے میں بات ہوتی ہے۔۔۔تو انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔۔۔اور جب انسان جذباتی ہوتا ہے تو وہ نون یا نون غنے کا خیال نہیں رکھتا ۔۔الف کی جگہ عین اس کے کی بورڈ سے نکلنا فطری ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنی رائے کا اظہار کر ڈالتا ہے تو اس کی طبیعت میں ایک سکون آ جاتا ہے یہ سکون اسے پرنٹ میڈیا کے قواعدو ضوابط میں نہیں مل سکتا ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں وہ مکمل اظہار نہین کر پاتا ۔۔۔۔۔تمام قواعدو ضوابط سے آزاد اس لئے بھی ہونا ضروری ہیں کہ کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔بیشتر پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔قواعدو انشاء کا خیال رکھنے والی ایک اچھی تحریر فوراً کاپی ہو کر انپیج کنورٹ ۔۔۔۔۔اور اگلے دن کسی اور نام سے اخبار کی زینت۔۔۔۔۔۔۔اب جو تحریر غیر سنجیدگی کا عنصر لئے ہوئے ہو گی ۔۔۔۔۔وہ اس تحریری سرقہ سے بھی محفوظ رہے گی۔آخر میں۔۔۔۔۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔بلاگنگ اورسوشل میڈیا  کا محتاج ہونا چاہئیے ناکہ بلاگر اور سوشل میڈیا ان کی جھولی میں جا گرے ۔۔۔۔وہ "دھوتی مین " پر تبصرہ تو رہ ہی گیا ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اسے بغیر تبصرہ کے ہی رہنے دیتے ہین۔۔۔۔
تاہم ایک مرتبہ پھر کہوں گا۔۔۔۔۔۔بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عصری تعلیم لازم مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی واخلاقی تعلیم کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔


حکیم قاضی ایم اے خالد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہذیب، اخلاق، تمدن، انسانیت، شرافت، نیکی، بھلائی اور خیرخواہی فطرت کا اصل حصہ ہیں۔ تعلیم سے جس میں جلا پیدا ہوتی ہے، اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم ایک انسان کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم سے تہذیب و تمدن کا رشتہ جڑا ہوا ہے، جہاں تعلیم ہوگی وہاں انسانیت زندہ ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نبی پاک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے تک جہالت کا دور دورہ تھا۔ دور جاہلیت کی پہچان علم کے فقدان سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے اپنی پہلی وحی میں علم و قلم کا ذکر فرماکر لکھنے پڑھنے کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں جس علم کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ علم نافع ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن پاک نازل ہوا، اس کی ایک معجزانہ شان یہ ہے کہ وہ علوم و فنون کا گنجینہ اور معارف و اسرار کا خزینہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تعلیم کو اگر مغرب زدگی کا دیمک لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تہذیب و تمدن کو خیرباد کہہ دیتی ہے۔ایسی تعلیم اخلاقی زوال کے سارے راستے کھول دیتی ہے۔ اور انسانی اقدار کو پامال کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب سے دوری اور اخلاق سے عاری تعلیم اخلاقی خرابیوں کے راستے بناتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری عادات کو اپنانے کے جواز تلاش کرکے خود کو اور دوسروں کو گمراہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصری علوم کے ساتھ اسلامی و اخلاقی تعلیم کا حصول بھی لازم ہے۔ مغرب زدہ مذہب بیزار افراد اور مغرب زدہ تہذیب نے مذہب و اخلاق سے دوری کا نام ترقی رکھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے'ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک 'تنگ وتاریک مکانات 'غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
 غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور15مارچ:بھوک اور وزن میں کمی'لگاتار ہلکا بخار'بہت جلد تھکاوٹ ہونا'خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں لعوق خیارشنبر اسکا قدیم مرکب ہے۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور تیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان'اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:حکیم خالد

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے
لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے کی پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے حوالے سے ''ہیلتھ پاک '' کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں پانی کم استعمال کریںتو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ'تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭٭٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے:حکیم خالد


لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے جو صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے اب اسکی تصدیق نیویارک امریکہ میںایک طبی تحقیق نے بھی کر دی ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے موقع پرمنعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں میں لیموں کی اسکنج بین نہ صرف ترو تازگی کا احساس بخشتی ہے بلکہ گردے کی بیماریوں سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔امریکہ میں گردے کے ا مراض میں مبتلا افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں کا رس گردے میں پتھری بننے کا عمل انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود Citrate کا تناسب کسی بھی دوسرے Citrus Fruit کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر گردے میں بننے والی پتھری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ دو لیٹر پانی میں چارعدد لیموں کا رس ملا کر باقائدگی سے پینے سے گردے کا نظام موثر انداز میں کام کرتا ہے ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سرخ انقلاب سے واپس آجائیے ۔۔۔۔۔۔۔سبز انقلاب کی طرف


آزادی اور انقلاب مارچ کا مزید آگے بڑھنا ۔۔۔۔۔سرخ انقلاب۔۔۔۔۔۔۔۔کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جو وطن عزیز میں کسی کےلئے بھی قابل قبول نہیں ۔۔۔۔۔ان آزادی اور انقلاب مارچ کے قائدین و کارکنان کی واپسی۔۔۔کسی طور شکست نہین۔۔۔۔بلکہ یہ واپسی۔۔۔۔سبز انقلاب۔۔۔۔۔۔۔لا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ہم عمران خان اور قادری صاحب کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔اس وقت کہ جب اپوزیشن بالکل مفقود ہو چکی ۔۔اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ہمراہ ایک "پیج" پر ہیں۔۔۔۔ہم عمران کو "شیڈو وزیراعظم" کے طور پر قبول کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور قادری صاحب کو بھی اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے ضروری خیال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم انہیں آئین اور پارلیمنٹ کا تقدس مدنظر رکھنا ہو گا۔۔۔۔۔۔مزاکرات میں ان قائدین کو کچھ ملے یا نا ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔اب بھی عمران صاحب اور قادری صاحب عوام کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ۔۔۔۔پلیز بیک ٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔گرین ریوولیشن۔۔۔۔۔۔۔!!!
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈپریشن اورکولیسٹرول میں توازن کیلئے نمازبہترین علاج ہے:حکیم خالد

نماز تراویح 'بیسیوں امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور :موجودہ ملکی سیاسی'سماجی و معاشی حالات کے باعث ڈپریشن (یاسیت )کی مرض میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے ۔ ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو ' نمازپنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی انتہائی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالدنے ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام''نماز پنجگانہ اور تراویح ۔جدید تحقیق و طبی نکتہ نگاہ '' پر مبنی خصوصی لیکچر میں کیاانہوں نے کہا کہ جدید تحقیقات کے مطابق ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو 'نماز پنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی کو دنیا بھر کے محققین نے تسلیم کیا ہے۔امریکن ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک معروف محقق ڈاکٹر ہربرٹ بِنسن نے اپنی ایک تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دوران نماز تراویح قرآنی آیات بار بار سننے اور ذکر الٰہی سے عضلات میں تحریک پیدا ہونے کے علاوہ ذہن برے خیالات سے پاک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص قسم کاری لیکسیشن ریسپونس Relaxation Responseوجود میں آتا ہے جس سے بلند فشارِ خون میں واضح کمی نمودار ہونے کے علاوہ جسم میں آکسیجن کی تقسیم میں بہتری سے 'قلب اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔قاضی خالد نے کہا کہ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں نمازوں اور تراویح میں جسم کی حرکات و سکنات' روحانی ورزش کے طورپر استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایک مسلمان نمازیں اور تراویح باقاعدہ ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف زندگی کے مشکل ترین کام اور بھی بخوبی انجام دینے کے قابل بن جاتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں طبی و روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔حکیم خالد نے کہا کہ نماز پنجگانہ اور باقاعدہ تراویح پڑھنے سے اضافی حرارے جلتے ہیں جس سے موٹاپے اور اضافی وزن میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔بند جوڑ کھل جاتے ہیں اورہڈیوںو عضلات میںمضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔میٹابولزم کی رفتار میں سرعت اورگردشِ خون پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔رفتارِ قلب اور کولیسٹرول اعتدال پر رہتا ہے۔یکسوئی اور مکمل دھیان سے مراقبہ کے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیںیاداشت میں بہتری آجاتی ہے پریشانی اور افسردگی سے چھٹکاراحاصل ہوتا ہے۔ڈپریشن یاسیت اوربے خوابی سے نجات مل جاتی ہے۔جسمانی اور ذہنی دباؤ دور ہو کرروح کی پاکیزگی اور تازگی حاصل ہوتی ہے نظام تنفس اورقلب پر مثبت اثرات پڑنے سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ہڈیوں کی بیشتر بیماریوںسے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعض محققین کے مطابق عبادت کا یہ انداز اینٹی ایجنگ کیفیت رکھتا ہے نیزبڑھاپے میں بھی متحرک اور فعال رہا جا سکتا ہے تمام نمازوں اور تراویح کی ادائیگی سے رضائے پروردگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طبی فوائد حاصل کر کے ایک بہترین اورصحت مند زندگی گذاری جا سکتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے
اولاد کی نعمت سے محروم اور موٹاپے کی شکار خواتین ضرور روزے رکھیں
روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور: دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںجسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل' ڈاکٹر جوزف' ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر'ڈاکٹر ایم کلائیو'ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ'ڈاکٹر جیکب 'ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ'ڈاکٹر برام جے 'ڈاکٹر ایمرسن' ڈاکٹرخان یمر ٹ 'ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس و اعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور معروف یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ماہ صیام کی آمد کے موقع پرکونسل ہذا کے زیراہتمام ایک مجلس مذاکرہ بعنوان'' روزہ اور جدید سائنس'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیںوہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے 'یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

 روزہ موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام ہضم کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلا ًسموسے' پکوڑے 'کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل 'کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جدید تحقیقات کے مطابق نباتاتی علاج سے شوگر کنٹرول کی جاسکتی ہے:حکیم خالد

٭… دنیا کے35کروڑ افرادشوگر میں مبتلا ' جبکہ ہر دس سیکنڈ کے بعد ذیابیطس سے ایک موت ہوتی ہے 
٭…ذیابیطس بھی بلڈ پریشر کی طرح خاموش قاتل'پانچ سیکنڈ بعدشوگر کے مریض میں اضافہ
٭…روایتی طورطریقے چھوڑ کرمغربی طرز زندگی اپنانا'ذیابیطس کی بڑی وجہ ہے
 مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کی گفتگو

لاہور14نومبر: ذیابیطس بھی بلڈ پریشر کی طرح خاموش قاتل ہے کیونکہ اس کے لاحق ہونے کا علم بھی عموماًتاخیر سے ہوتا ہے ۔ دنیا کے 350ملین سے زائد افراد شوگرمیں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میںتقریبا ً8ملین یعنی 80لاکھ ذیابیطس کے مریض موجود ہیںشوگر کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر ساتویں نمبر پر ہے اقوام متحدہ نے ذیابیطس کو ایچ آئی وی ایڈز کے بعد دوسری خطرناک ترین بیماری قرار دیا ہے جو ہر 10سیکنڈ بعد ایک فرد کو موت کے منہ میں لے جانے کاباعث بن رہی ہے جبکہ ہر پانچ سیکنڈ بعدشوگر کا ایک نیا مریض سامنے آرہا ہے۔ذیابیطس کی دونوں قسمیں 'ذیابیطس نوع اول اور نوع دوم تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم ذیابیطس کے موقع پرالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ذیابیطس کے بڑھنے کی وجوہات میںسرفہرست یہ ہے کہ ہم نے اپنے روایتی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔آرام طلبی میں اضافہ'جسمانی مشقت میں کمی 'کھیل کود 'سیراور ورزش کی بجائے ٹی وی'ویڈیو گیمزاور کمپیوٹرکا بکثرت استعمال'کولا مشروبات'برگرز' چپس و دیگر مرغن غذاؤںکا انتہائی استعمال شوگر کے بنیادی اسباب ہیں اس کے علاوہ موٹاپااور جینیاتی ساخت بھی ڈایابیٹیزکا باعث بنتی ہے۔حکیم خالد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں اورصدیوں سے مستعمل ہیں جبکہ حال ہی میں کنیڈا'امریکہ'جرمنی'جاپان اور پاکستان میںدارچینی 'کلونجی 'کاسنی 'کریلا'جامن'سفید موصلی اور دیگر ہربز پرکئے گئے متعدد مطالعوں اور جدیدتحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ 
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

خسرہ میں خوب کلاں' صدیوں سے آزمودہ ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

ایلو پیتھک میں خسرہ کا کوئی علاج نہیں ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز


لاہور 29جنوری… صوبہ سندھ میںسینکڑوں انسانی جانیں نگلنے والی خسرہ کی وباء صوبہ سرحد 'اوراب صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔ملک بھر میں ہزاروں بچے اس مرض میں مبتلا ہیں' خسرہ ایک متعدی مرض ہے جس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں اس دوران کھانسی کی شکایت بھی ہوتی ہے ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے اس کے بعد چہرے اور گردن کے اوپر سرخ دانے نکل آتے ہیں جو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں' جسم پر شدید خارش ہوتی ہے اور مریض کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے عام طور پر پانچ دن بعد سرخ دانے کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اوردانوںکی رنگت سیاہی مائل ہوتے ہوئے مرض ختم ہوجاتا ہے لیکن وہ بچے جنہیں خسرے کے حفاظتی ٹیکے نہ لگوائے گئے ہوں ان کو خسرہ سے انتہائی نقصان اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔اس امر کا اظہارکونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کا کوئی مخصوص ایلوپیتھک علاج نہیںاس حوالے سے صرف علامتی علاج ہی کیا جاتا ہے تاہم طب یونانی میں خسرہ کیلئے شافی علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں خوب کلاں جسے خاکسی اور خاکشیر بھی کہا جاتا ہے صدیوں سے آزمودہ ہے۔خوب کلاں ایک خود رو پودے کے سرخ رنگت کے خشخاش کے سائز کے بیج ہیںجوملک بھر کے پنسار سٹورز اور اطباء سے عام دستیاب ہیںخسرہ کی علامات شروع ہوتے ہی درج ذیل نسخہ کا استعمال کروائیں۔ہوالشافی:عناب 3عدد'مویز منقیٰ5عدد'انجیر1عدد'خاکسی(خوب کلاں)9گرام 'چینی 12گرام 'آدھے کپ پانی میں جوش دیکر پلائیں اگر نقاہت و کمزوری زیادہ ہو تو اس کے ساتھ خمیرہ مروارید دوگرام کا اضافہ کریں۔مریض کے بستر پربھی خوب کلاںکے دانے چھڑکوائیں۔قبض ہو تو خمیرہ بنفشہ فائدہ مند ہے کھانسی کی صورت میں لعوق سپستان استعمال کروائیں۔انشاء اللہ شفا یابی ہوگی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

احتیاطی تدابیرسے کینسر کو شکست دی جاسکتی ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


80فیصدکینسر کے مریض تشخیص اور علاج کے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں
متوازن غذا'سبزیوںاور پھلوں کا استعمال' کینسر سے بچاؤ میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور26جنوری :ملک میں80فیصدکینسر کے مریض تشخیص اور علاج کے بغیر لاعلمی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو 20فیصدعلاج کرواتے ہیں وہ بھی اس وقت ہسپتال یامعالجین کے پاس آتے ہیں جب اس موذی مرض کے اثرات اتنے گہرے ہو چکے ہوتے ہیںکہ اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔کینسر کا تدارک اسی صورت ممکن ہے جب سرطان کے سلسلے میںعوام الناس میں شعورکوبیدارکیا جائے۔سرطان کے بارے میں معلومات کو عام کرنے کیلئے نہ صرف طبی تنظیموں بلکہ دیگر تمام این جی اوز کوبھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔اس امر کا اظہار کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے کینسر سے متعلقہ آگہی مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کینسرکے خاتمے کے لیے احتیاط سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ فوڈ سٹریٹس جیسے تعیشات میں آگ پر بھنے زیادہ مرچ مصالحے اور نمک لگے خشک گوشت سے حتی الامکان پرہیز رکھیں۔ تلی ہوئی اشیاء گوشت و آلو کی چپس وغیرہ میں سرطان پیدا کرنے والا ایک جز''ایکریلامائڈ'' بہت زیادہ بڑھ جاتاہے۔ گوشت کو بہت زیادہ نہ پکائیں بہت زیادہ بھنا ہوا کڑاہی گوشت سرطان پیدا کرنے کا باعث بن سکتاہے۔اپنی غذا میں فائبر یعنی ریشہ دار اشیاء شامل رکھیں۔حیاتین الف (وٹامن اے) اور حیاتین ج (وٹامن سی) والی غذائیں زیادہ استعمال کریں۔ گوبھی اور اس جیسی دوسری ترکاریاںوپھل ضرورکھائیں۔اوزون کی تہہ ختم ہونے کے باعث سورج کی کرنیں مزید نقصان دہ ہو چکی ہیں۔لہٰذا ''سن باتھ'' بلاضرورت نہ لیںاورسورج کی کرنوں کی زد میں بلا مقصد نہ رہیں۔ مایوسی'نفرت' بدگمانی' حسد'عداوت' حرص وطمع جسم کے غدودی نظام کو متاثر کرتے ہیں جس سے دماغی صلاحیتیں' شریانیں اور جسم کے خلیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔یہ منفی احساسات آخرکار جسم کے خلیات اور ریشوں کو جلاجلا کر سرطان کا باعث بن جاتے ہیں۔ان منفی احساسات سے بچنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ورزش ہے۔بیس پچیس منٹ کی ورزش مردوخواتین دونوں کے لیے سرطان سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ورزش سے جسم وذہن تروتازہ ہو جاتاہے۔ورزش اور اس کے ذریعے آکسیجن کا حصول جسم کی قوت مدافعت(Immunity) بڑھادیتاہے اور یہ قوت سرطان سمیت ہر قسم کے امراض کی مدافعت کا باعث بنتی ہے۔ مندرجہ بالاتدابیرپر عمل کرکے انشاء اللہ یقینا ہم سرطان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ذیابیطس کیلئے سفید موصلی انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی :حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور13نومبر:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام ''ذیابیطس اورنباتاتی ادویات''کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ذیابیطس کیلئے معروف جڑی بوٹی سفید موصلی انتہائی موثرہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹر کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق موصلی سفید ذیابیطس سے لڑنے میںبے حد مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی غذائیں جن میں فائبر زیادہ ہوتا ہے ناصرف بھوک کی اشتہا میں کمی لاتی ہیں بلکہ جسم کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتی ہیں جس کے تحت وہ خون میں شوگر کی سطح پر قابو رکھتی ہیںموصلی سفید اور دیگر کئی جڑی بوٹیاں ایسے تیز کاربوہائیڈریٹس مانے جاتے ہیں جو جسم میںGutہارمونزتیزی سے پھیلاتے ہوئے بھوک کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہ جڑی بوٹیاں جسم کے خلیوں میں گلوکوز بھیجنے والے ہارمون انسولین کی حساسیت میں بھی بڑھا ؤپیدا کرتی ہیں تاکہ وہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو ایک حد تک متعین رکھ سکے۔سائنس دانوں کے مطابق موصلی سفید وہ واحد ادویاتی پودہ ہے جو سیارہ مریخ کی زمین پر بھی بارآور ہو سکتا ہے یاد رہے کہ موصلی سفید شوگر سمیت پیشاب اور دیگر امراض کے حوالے سے برصغیر پاک و ہندمیں زمانہ قدیم سے مستعمل ہے جس کی افادیت کی اب سائنسی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس سلسلے میںحکومت'بیوروکریسی اورایلوپیتھک ماہرین کو تعصب کی عینک اتار کر شہید پاکستان حکیم محمد سعیدکے اتحاد ثلاثہ(ڈاکٹر'حکیم اور سائنسدان)کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے فلاح انسانیت اور عوام کی صحت کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا چاہئے۔ ایلو پیتھک طریق علاج بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں جن میں سائنسی طور پر مصدقہ موصلی سفید بھی شامل ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صبح آزادی:چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی


چودہ اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2012ء کو ہم بزدل حکمرانوں کی بدولت بالواسطہ بیرونی آقاؤں کی غلامی میں ہیں کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 بقول نثار ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے

ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2012ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے ؟؟؟’’ ۔ یا غلامی سے آزادی کےلیے دوبارہ تحریک پاکستان جیسی جدوجہد ضروری ہے۔

بقول فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض
———————-

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

رمضان اور شیطان۔۔۔۔۔


ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جب رمضان المبارک آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اورشیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1899 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1079 ) ۔
شیطانوں کے جکڑے جانے کے معنی میں علماء کرام نے کئی ایک معنی کیے ہیں :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے الحلیمی سے نقل کیا ہے کہ :
یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ جس طرح وہ عام دنوں میں مسلمانوں کوگمراہ کرسکتے ہیں رمضان میں نہیں کرسکتے کیونکہ وہ روزہ میں مشغول ہوتے ہیں جوشھوات کوختم کردیتا ہے اورقرآن مجید کی تلاوت اورذکر واذکارمیں مشغول رہنے کی بنا پر گمراہ ہونے سے بچ جاتے ہیں ۔
اورالحلیمی کے علاوہ دوسروں کا کہنا ہے کہ : اس سے بعض شیطان مراد ہیں جوکہ زيادہ سرکش قسم کے ہوں انہیں جکڑا جاتا ہے ۔۔۔۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( صفدت ) یعنی زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اورقاضي عیاض رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : یہ احتمال بھی ہےکہ اسے ظاہر اورحقیقت پر محمول کیا جائے ، اوریہ سب کچھ فرشتوں کے رمضان المبارک کے شروع ہونے کی علامت اوراس کی حرمت کی تعظيم اورشیطانوں کا مؤمنوں کواذیت دینے سے منع کرنا ہے ۔
یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں اجروثواب کی کثرت کا اشارہ ہو اورشیطانوں کا لوگوں کوگمراہ کرنا کم ہونے کی بنا پر وہ جکڑے ہوؤں کی طرح بن جائيں ۔
اس دوسرے احتمال کی تائيد مندرجہ ذیل مسلم کی روایت سے بھی ہوتی ہے :
یونس بن شھاب بیان کرتے ہیں کہ : رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، یہ بھی احتمال ہے کہ ۔۔۔۔۔ کہ شیطان لوگوں کوگمراہ کرنے اوران کے لیے شھوات کومزین کرنے سے عاجز ہونے کی بنا پر انہیں جکڑے ہوئے کہا گيا ہے۔
زين بن المنیر کہتے ہيں کہ پہلا معنی زيادہ اولی ہے اورالفاظ کو ظاہری معنی میں نہ لینے کی کوئي وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی ضرورت ہے ۔
دیکھیں فتح الباری ( 4 / 114 ) ۔
شیخ ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا معنی پوچھا گيا :
( اورشیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ) ۔
اس فرمان کے باوجود ہم دیکھتے ہيں کہ ماہ رمضان میں دن کے وقت بھی بہت سے لوگ جنوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں ، تولوگوں کے اس دوروں کے باوجود شیطان کا جکڑا جانا کس طرح ہوگا ؟
توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
بعض روایات میں ہیں کہ : ( اس میں سرکش قسم کے شیطان جکڑے دیے جاتے ہیں ) ( یا انہیں بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ) امام نسائی رحمہ اللہ تعالی نے اسے روایت کیا ہے ۔
اس طرح کی احادیث امور غیبیہ میں شامل ہوتی ہيں جن کے بارہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ انہيں تسلیم کرنا چاہیے اوران کی تصدیق کرنا ضروری ہے ، اورہمیں اس میں کچھ بھی کلام نہیں کرنی چاہیے ، کیونکہ اسی میں انسان کے دین اوراس کے انجام کی بہتری ہے ۔
اسی لیے جب عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے اپنے والد احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کو کہا کہ :
ماہ رمضان میں بھی انسان کو جن چمٹ جاتے ہیں اوروہ ان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے ، توامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے جواب میں کہا : حدیث یہی کہتی ہے اوراسی طرح حدیث میں وارد ہے ، ہم اس میں کوئي کلام نہيں کرسکتے ۔
پھرظاہر تو یہی ہےکہ انہيں لوگوں کو گمراہ کرنے سے جکڑا جاتا ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ رمضان میں خیروبھلائي کی کثرت ہوتی ہے اوراکثر لوگ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں ۔ انتھی
دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 20 ) ۔
تواس بناپر ہم یہ کہيں گے کہ شیطانوں کا جکڑا جانا حقیقی ہے جسے اللہ تعالی ہی جانتا ہے ، اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شر وبرائي کا وقوع ہی نہ ہو یا پھر لوگ معاصی و گناہ نہ کریں ۔ واللہ تعالی علم ۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے:حکیم خالد


سگریٹ پینے والانہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے :یونانی میڈیکل آفیسر

لاہور23مئی: ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس دن کومنانے کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ'کاربن مونو آکسائیڈ'اونیاایسے ٹون'نکوٹین اور تقریبا 4000دوسرے مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔ سگریٹ کی مدد سے خود کشی کرنے والا صرف اپنی سانسوں کو ہی کم نہیں کرتابلکہ اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے ہر شخص کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم انسداد تمباکو نو شی کے حوالے سے آگہی مہم کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشوں کے چھوڑے ہوئے دھوئیں میں محض آدھا گھنٹہ سانس لینے سے تمباکو نہ پینے والوں کے قلب کو خون کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے ، اس دھوئیں کی مضرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تجرباتی طور پر جن افراد نے روزانہ بیس سگریٹ پھونکے انہیں ان کے دھوئیں نے یہ تکلیف نہیں پہنچائی اور اس ماحول میں موجود ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے۔لہذاحکومت کوچاہئے کہ سگریٹ نوشی کی روک تمام کیلئے موثر اقدامات کرے اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالے دھویں سے ان لوگوں کی کثیر تعدادبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتیعالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔موجودہ صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کے باعث ہلاک ہوجائیں گے ضرور اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے تدارک کیلئے سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ سگریٹ نوشی کے اشتہارات شائع اور نشر نہ کئے جائیں۔حکومت سگریٹ نوشی خصوصاً پبلک مقامات پر پابندی نیز سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے قوانین کا سختی سے اطلاق کرے ۔تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوڈ شیڈنگ کے عوارضات سے بچاؤ کیلئے لیموں پانی اور سرکہ استعمال کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے امراض سے بچا جا سکتا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
لوڈ شیڈنگ کے عوارضات سے بچاؤ کیلئے لیموں پانی اور سرکہ استعمال کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور22مئی :کم ازکم چار گھنٹے مسلسل نیند کے بعد' گہری نیند کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جوانسانی جسم اور ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے بہت ضروری ہے لیکن یہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ حکومتی نااہلی اورلوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پاکستانی عوام کی اکثریت کو چونکہ اتنے گھنٹوں کیلئے مسلسل بجلی میسر نہیں لہذا وہ صحیح طور پر  نہیں سوسکتے اور یوں ان کی ذہنی بے چینی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے کئی قسم کے جسمانی و ذہنی امراض پیدا ہورہے ہیں۔بات بات پہ غصہ 'چڑچڑاپن'طبیعت میں بے چینی'لڑائی جھگڑے 'عدم برداشت'عدم تحفظ کا احساس اور احساس کمتری بڑھ رہی ہے۔جسمانی امراض میں ڈی ہائیڈریشن' اینزائٹی 'اسہال 'گیسٹرو 'آشوب چشم' لو لگنا 'بے ہوشی'امراض قلب'امراض جلد اور کئی قسم کی دیگرامراض میں اضافہ ہوگیاہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے مرکزی دفتر واقع 32ذیلدار روڈ اچھرہ لاہورمیںمنعقدہ ایک مجلس مذاکرہ بعنوان''بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور صحت عامہ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ان حالات میں جبکہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کی صحت کے حوالے سے بھی' اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے' احتیاطی تدابیر اپنا کراپنی مدد آپ کے تحت' صحت کا تحفظ کیاجانا چاہئے۔موجودہ حالات میںہلکے سوتی ملبوسات کا استعمال کریں۔ جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ۔پانچ وقت کا وضوغسل کا متبادل اور متعددذہنی'جسمانی و موسمی امراض کا  بہترین علاج ہے۔ کم ازکم پندرہ سے بیس گلاس روزانہ پانی کا استعمال کریں(ماسوائے گردے کے پرانے اور پچیدہ مریضوں کے)۔آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم رواں میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہئے۔لوڈ شیڈنگ موجودہ گرمی و حبس میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔پسینے کی زیادتی سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے نمکین لیموں پانی (سکنجبین)بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق' سرکہ موسم رواں کی بیشتر 'بیماریوں کا بہترین علاج ہے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے( سرکہ سینتھیٹک یعنی تیزابی یا مصنوعی نہیں ہونا چاہئے )سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کیلئے لہسن'ادرک اور پیاز کامناسب استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے مندرجہ بالا اصولوں پر عمل کریں تو یقیناہم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عوارضات اوران سے پیدا شدہ امراض سے بچ سکتے ہیں۔

٭…٭…٭
http://healthnewspaper.co.cc/    http://hakeemkhalid.tk/
news@healthlineint.co.cc
qazimakhalid@who.net
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کلونجی ایڈز کے علاج میں انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



ذیابیطس ‘بلڈ پریشر’کینسر’لیوکیمیااور اینٹی کینسرکیمیو تھراپی میں بھی کلونجی فائدہ مند ہے


لاہور:طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم )اوریونانی (ہربل ) سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں ۔کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ‘’اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے’‘یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کے بیج ‘ایچ آئی وی ایڈز ‘کینسر’لیوکیمیا’ذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائے گئے ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ ایڈز آگہی مہم کے حوالے سے کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ فلو ریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔جن سنگ’ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایڈزکے مریضوں میں ایمیون سسٹم(مدافعتی نظام) کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج سے ایڈز کے خاتمے میںیقینی پیش رفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہو رہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبر
NCT00327054

کے مطابق کلونجی کوذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززمیں فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔
٭…٭…٭
NEWS@HEALTHLINEINT.CO.CC
QAZIMAKHALID@WHO.NET
مکمل تحریر اور تبصرے >>>