میرے بارے میں

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



World Tuberculosis Awareness Campaign 2012

دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے’ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک ‘تنگ وتاریک مکانات’ غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


لاہور:بھوک اور وزن میں کمی‘لگاتار ہلکا بخار‘بہت جلد تھکاوٹ ہونا‘خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں ۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور بیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دو لاکھ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان’ اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭


مکمل تحریر اور تبصرے >>>