میرے بارے میں

ایک صحت مند معاشرے کےلئے۔۔۔۔ ہمیں احتجاجی طریق کار ہر صورت بدلنا ہوں گے۔


 ماحولیاتی آلودگی'کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
 ٹائر جلانے سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز وجود میں آتے ہیں: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

 ماحولیاتی آلودگی'دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے۔ گاڑیوں کے دھویں سے خارج ہونے والاکاربن مونو آکسائیڈ'سیسہ 'نائٹروجن اور سلفر آکسائیڈ'سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر'ہسپتالوں کا کچرا 'سرنجیں'استعمال شدہ بوتلیں'مضرِصحت کیمیائی کچرا'چمڑے کی فیکٹریوں کی آلودگی 'کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں خاص طور پر احتجاج کے موقع پر ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے ہائڈروکاربن اور دیگر کیمیکلز وجود میں آتے ہیںجو آنکھوں 'ناک' گلے اور پھیپھڑوں کے متعدد امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کا سبب بھی بنتے ہیں۔ٹائر جلانے سے نہ تو لوڈشیڈنگ میں فرق پڑاہے نہ کشمیر آزاد ہو جائے گانہ ہی اس سے معصوم فلسطینیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا اظہار ہے البتہ اس اقدام سے ہم اپنے ہی لوگوں کو ضرور نقصان پہنچاتے ہیں۔احتجاج کی افادیت اور ضرورت سے کسی طور انکار ممکن نہیں زندہ قومیں احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن ہمیں اپنے معصوم بچوں اور بڑوں کی صحت کیلئے احتجاجی طریق کار بدلنا ہوں گے۔معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیں بلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔صحت مند پاکستانی معاشرے کیلئے طبی ایسوسی ایشنوں اوردیگرتمام این جی اوز کو بھی کینسر کے بارے میں آگہی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعوربیدارکرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ #
( ''ہیلتھ پاک'' کے زیر اہتمام کینسراور ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں شعور و آگہی مہم کے حوالے سے منعقدہ ایک مجلس مذاکرہ سے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کا خطاب)

٭…٭…٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد


سوتی ملبوسات استعمال کریں'پانی ابال کر پیئں'لیموں پانی اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں
سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے :کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


لاہور22مئی: اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا'بھوک کی کمی 'سردرد'صفراوی بخار'گھبراہٹ 'خفقان' ٹائیفائڈ'پھوڑے پھنسیاں'ہیپاٹائٹس 'یرقان 'گیسٹرو'ہیضہ' اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی'بزوری 'صندل' فالسہ اور نیلوفر کا شربت 'لیموں پانی' تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی 'نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان'' موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ 'تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی 'گیسٹرو'اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔



سوشل میڈیا پر ایک اسٹیٹس کے جواب پر مختصر مکالمہ ہوا پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ اپنا اظہار خیال ۔۔۔۔۔نذر قارئین
ہے۔۔
Hakim Khalid
بلاگنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا۔۔۔۔کی خوبصورتی اور طاقت۔۔۔۔۔غیر منظم اور انفرادی سوچوں کے اظہار میں ہی پنہاں ہے۔۔۔۔۔۔اسے منظم کرنے والے کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں ۔۔پاکستان میں۔۔۔اس حوالہ سے" غیر منظم ہونے کی خاصیت کا ختم ہونا" ۔۔۔۔۔۔ان جدید صحافتی اصناف کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Fahad Kehar
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن ہم کسی تنظیمی یا ضابطہ اخلاق کے بندھن میں نہیں باندھ رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک پلیٹ فارم بنائیں جو بلاگنگ اور سوشل میڈيا میں اردو استعمال کرنے والوں کے لیے کارآمد ہو۔

Hakim Khalid
اپنے بلاگ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز۔۔۔۔۔ کیا کم ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد بھائی
جس طرح بعض افراد ۔۔۔۔۔ لوگوں کے انگلش کے الفاظ درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح اب اردو کی املاء درست کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔جبکہ الفاظ کے اندر چھپے۔۔۔۔۔۔ مفہوم کا ادراک کیا جاتا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔اعلی اردو دانی ۔۔۔۔۔اظہار رائے کےلئے ضروری نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاط بھی بہت اچھا پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو معاشرے کےلئے اہم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
حکیم صاحب، گویا آپ کا کہنا ہے کہ الٹی سیدھی جیسی تیسی اردو لکھی جا رہی ہے تو لکھی جاتی رہے، اس کی درستی کی ضرورت نہیں ہے؟

Hakim Khalid
جی بالکل ۔۔۔۔۔عمار بھائی۔۔۔۔اظہاررائے کو اردو دانی کے قواعدوضوابط کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اردو میں ایک وسعت ہے۔۔۔اور یہ کئی زبانوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ زبان پرانے الفاظ متروک کرکے۔۔۔۔۔۔ نئے الفاظ خواہ وہ کسی بھی زبان سے متعلقہ ہوں ۔۔۔(آپ کے نا چاہتے ہوئے بھی) محفوظ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں روک سکتے ۔دہلی کی اردو۔۔۔۔۔الہ آباد کی اردو۔۔۔۔۔کو آپ موجودہ دور میں مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
بات دہلی کی اردو اور لکھنو کی اردو کی نہیں ہے۔ اگر میں قواعد و انشا سے بے پروا ہوکر اردو لکھنے لگوں تو آپ میرا پیغام سمجھ بھی نہ سکیں۔ کسی کے لیے کہی گئی بات کو اپنے اوپر منطبق کرلیں۔ اور بات تو وہی اثر رکھتی ہے جو عمدہ پیرائے میں کہی گئی ہو۔ اب کوئی یہ اعتراض کر دے کہ بیمار افراد بھی اس کائنات کا حسن ہیں اور ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے، آپ کون ہوتے ہیں جو ان کا علاج کریں تو بتائیے کیسا لغو اعتراض مانا جائے گا۔ سیکھنے کا عمل زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ جس نے سیکھنا ہو سیکھ لے، جو نہ چاہے نہ سیکھے۔

Hakim Khalid
یہی وجہ ہے کہ ایک سطحی تعلیم کے حامل رپورٹر کی۔۔۔۔۔۔ رپورٹنگ حالا ت و واقعات کی آگاہی کے حوالہ سے۔۔۔۔ انتہائی بہتر اور زیادہ پر اثرہوتی ہے۔۔(حالانکہ بعض اوقات اس کے الفاظ پر ہنسی آتی ہے)۔۔۔بہ نسبت ماس کمیونی کیشن ماسٹر یا اعلی تعلم یافتہ کے۔۔۔۔۔۔جو الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں اصل واقعات کی ہو بہو عکاسی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار رائے کو کسی بھی قسم کے قواعدو ضوابط میں منضبط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض امراض میں ۔۔۔۔۔۔۔علاج کے حوالہ سے زبردستی۔۔۔۔۔اور مریض کو گھر کے ماحول سے ۔۔۔۔۔۔ہسپتال لا پھینکنا۔۔۔ اسے مزید بیمار کر دیتاہے۔۔۔اور اسے ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں جکڑ کر اسے وقت سے پہلے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکھنا ہی اگر ہو تو دوسروں کی کم علمی ٗجہل اورغلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

Ammar IbneZia
بہرحال، اپنی اپنی رائے ہے۔ اور یہ رائے کا ایسا اختلاف نہیں جس سے دلوں میں کدورتیں پیدا ہوں۔

  دلوں میں کدورتیں پیدا نہ ہوں اس لئے ہم جزوی اتفاق کرلیتے ہیں کہ اردو قواعدو انشاء کے قوانین کو مدنطر رکھتے ہوئے تحریر لکھی جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس اصول کا نفاذ صرف اخبارات کے ادارتی شعبہ تک ہی محدود ہو (جو پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں)۔۔۔۔۔۔۔لیکن عام رپورٹنگ ۔۔۔۔بلاگنگ ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس کی پابندی لازم نہین۔۔کیونکہ۔۔۔صرف اینگلینڈ اور عرب اسٹیٹس کے کچھ بلاگرز ہوں گے جو اپنی تحریروں میں اپنی زبان کی گرائمر کا خیال رکھتے ہوں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دنیا بھر کے بلاگرز کی تحریریں اپنے آپ کو قواعدو انشاء کے اصولوں میں مقید نہیں کرتیں۔۔۔۔۔لہذا یہ اصول صرف اردو بلاگرز پر ہی کیوں لاگو ہو۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس سے ہمارے محترم بلاگرز کی تحریروں میں "بلاگیاں شلاگیاں " ختم ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔۔سنجیدگی اچھی بات ہے لیکن انسان غیر سنجیدگی سے جو کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔سنجیدگی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے محترم اردو بلاگرز اردو قواعدو انشاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی تحریروں میں پنجابی ،سندھی، بلوچی، پشتو ،کشمیری سمیت متعدد زبانوں اور بعض اوقات خود ساختہ زبانوں کے الفاظ کا "تڑکا" لگاتے ہیں تو "ریسیپی" بہترین بنتی ہے۔۔۔۔اور سب کو پسند بھی آتی ہے۔۔۔یہی حال اردو داں سیاست دانوں کا ہے جو اینگلینڈ میں بیٹھ کر اپنی اردو تقریر میں جب پنجابی بھڑکیں لگاتے ہیں تو عوام بہت محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی صرف ایک پنجابی بھڑک پوری تقریر کو یاد رکھنے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔مختصراً یہ کہ غیر سنجیدگی کے پیچھے جو سنجیدہ پیغام چھپا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے قارئین اسے بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ اب اخبارات کی غیر سنجیدہ اور حقیقت سے کسی حد تک دور "سرخیاں" (جس کا سمٹ میں برا منایا گیا)عوام الناس کو زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور وہ پوری خبر پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔۔(یہ طریقہ "اردو پوائنٹ" سمیت متعدد سائٹس نے بھی اپنایا ۔۔۔۔اور اپنی ویب سائٹ تک قارئین کو لانے میں بہت حد تک کامیاب ہین۔)

سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی تحریریں ۔۔۔۔آزاد ہوتی ہیں۔۔۔۔۔انہیں آزاد ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔جہاں انسانیت کا استحصال ہو رہا ہو ۔۔۔۔وہاں زبانوں کا استحصال ایک بے معنی اور ضمنی سی چیز ہے۔۔۔۔عجیب اردوداں دانشور ہیں کہتے ہیں زباں بگڑی تو شخصیت بگڑ جاتی ہے ۔۔میں کہتا ہوں کہ معاشرہ بگڑنے پہ تو معترض نہین یہ دانشور ۔۔۔۔اور زباں بگڑنے پر کس قدر نوحہ کناں ہیں۔۔۔جب معاشرے کے بگاڑ کے بارے میں بات ہوتی ہے۔۔۔تو انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔۔۔اور جب انسان جذباتی ہوتا ہے تو وہ نون یا نون غنے کا خیال نہیں رکھتا ۔۔الف کی جگہ عین اس کے کی بورڈ سے نکلنا فطری ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنی رائے کا اظہار کر ڈالتا ہے تو اس کی طبیعت میں ایک سکون آ جاتا ہے یہ سکون اسے پرنٹ میڈیا کے قواعدو ضوابط میں نہیں مل سکتا ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں وہ مکمل اظہار نہین کر پاتا ۔۔۔۔۔تمام قواعدو ضوابط سے آزاد اس لئے بھی ہونا ضروری ہیں کہ کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔بیشتر پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔قواعدو انشاء کا خیال رکھنے والی ایک اچھی تحریر فوراً کاپی ہو کر انپیج کنورٹ ۔۔۔۔۔اور اگلے دن کسی اور نام سے اخبار کی زینت۔۔۔۔۔۔۔اب جو تحریر غیر سنجیدگی کا عنصر لئے ہوئے ہو گی ۔۔۔۔۔وہ اس تحریری سرقہ سے بھی محفوظ رہے گی۔آخر میں۔۔۔۔۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔بلاگنگ اورسوشل میڈیا  کا محتاج ہونا چاہئیے ناکہ بلاگر اور سوشل میڈیا ان کی جھولی میں جا گرے ۔۔۔۔وہ "دھوتی مین " پر تبصرہ تو رہ ہی گیا ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اسے بغیر تبصرہ کے ہی رہنے دیتے ہین۔۔۔۔
تاہم ایک مرتبہ پھر کہوں گا۔۔۔۔۔۔بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>