میرے بارے میں

گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عید قربان کا تحفہ ہے


 تمام احباب کو عید الاضحی مبارک  ہو



گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی ‘ڈائریا’پیٹ درد ‘آرتھرائٹس’امراض قلب اورہائی بلڈ پریشرہو سکتا ہے
گوشت کے ساتھ ساتھ موسمی پھل اور سبزیاں بھی استعمال کریں:یونانی میڈیکل آفیسرقاضی ایم اے خالد

لاہور…صحت مند افراد کیلئے دن بھر میںسو گرام گوشت کا استعمال نقصان دہ نہیں جبکہ اس سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔گوشت کو نقصان دہ یا غیر نقصان دہ سمجھنے کی بجائے یہ سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ غیر متوازن غذامرض اور متوازن غذا صحت کی علامت ہے۔عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت کھانے میں بے اعتدالی اور غیر محتاط رویہ اختیار کرنے کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی ‘ڈائریا’پیٹ درد’بخار جیسی شکایات تو فوری ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر’آرتھرائٹس’امراض قلب’کینسر جیسی امراض کافی عرصہ بعد وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرقاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عید قربان کا تحفہ ہے۔جس کا اعتدال کے ساتھ استعمال پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے اور خون میں سرخ خلئے بناتا ہے۔لیکن گوشت کے استعمال کے ساتھ ساتھ موسمی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی کرنا چاہئے تاکہ غذا متوازن ہو سکے ۔گوشت کے پکوانوں میں مصالحوں کا استعمال کم سے کم کریں۔گوشت ہضم کرنے کیلئے کولڈ ڈرنکس کا استعمال سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اس کی بجائے حفظان صحت اور جی ایم پی یعنی گڈ میڈیکل پریکٹس کے مطابق تیارشدہ ہاضمے کے روائتی چورن اور گولیاں زیادہ موثر ہیں۔امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریض گوشت کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں۔زیادہ گوشت کا استعمال دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی کمی کا باعث بنتا ہے۔کیلشیم کی کمی سے ہڈیاں ہلکی اور بھر بھری ہو جاتی ہیں جس سے فریکچربا آسانی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ گوشت زیادہ کھانے سے وزن بڑھتا ہے’پیٹ بڑھنے سے پیٹ کے نیچے لبلبہ ڈی پریس ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین بننے کی رفتار کم ہوکر خدانخواستہ شوگر ہو سکتی ہے۔گوشت کو محفوظ کرنے کے لئے اسے ٹکڑے کرکے نمک اور لیموں یا سرکہ چھڑک کردھوپ میں سکھائیں’چولہے پر خشک کریں یا فریز کریں ۔یہ تینوں طریقے حفظان صحت کے مطابق ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طب یونانی اور ہومیو پیتھک کو عطائیت قرار دینا آئین پاکستان کی توہین ہے



طب یونانی قومی ورثہ ہے ‘جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا:حکیم قاضی ایم اے خالد
ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیانے بلامعاوضہ اہم کردار ادا کیا’کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور یکم نومبر:مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میںملکی و غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق وطن عزیز میں سرکاری طور پر تین طریقہ علاج یعنی طب یونانی’ ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک منظور شدہ ہیں۔اپنے اپنے طریق علاج کے اندر رہتے ہوئے پریکٹس عطائیت نہیں کہلا سکتی۔لہذا کسی بھی طریق علاج کے ماہرین کی طرف سے آئینی وقانونی طور پر تسلیم شدہ طریق علاج کو عطائیت قرار دیناقابل مذمت فعل اور آئین پاکستان کی توہین ہے ۔غیرملکی مفاد کے علمبردار’ ملٹی نیشنل دواسازاداروں کے تنخواہ دار’ایلوپیتھک فیملی فزیشنز کی طرف سے’ طب یونانی کودیوار سے نہیںلگنے دیںگے۔طب یونانی قومی ورثہ اور پاکستانی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔حکیم خالد نے کہا کہ طب یونانی کے کاروان میں بی ای ایم ایس ڈگری ہولڈرز’گریجوایٹس اور پوسٹ گریجوایٹس اطباشامل ہو چکے ہیں جو یقیناً متعصب طریقہ علاج کی مقبولیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اطباء اور ہومیو ڈاکٹرز کو سرٹیفکیٹس کے اجرا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی خالد نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سربراہ کی خصوصی ہدایات پر یہ ضروری ہے ایلوپیتھک فیملی فزیشنز احمقوں کی جنت میں بس رہے ہیںدنیا میں کیا ہو رہا ہے اس کیلئے انہیں اپنا نالج اپڈیٹ رکھنا چاہئے ۔ یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ جب حکومت’بیوروکریسی اور ایلوپیتھک ماہرین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اس وقت ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیا اپنا کرداربغیر کسی معاوضہ کے اداکر رہے تھے۔ڈینگی اویرنس کے حکومتی سیمینارز و تربیتی ورکشاپس میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنز’پاکستان بھر کی عوام کو بہت پہلے بتا چکی ہے۔اس سلسلے میںالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکا چھ ماہ کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ایلوپیتھک میں ڈینگی بخار کا کوئی علاج نہیں ہے۔2006میں سب سے پہلے کونسل آف ہربل فزیشنز نے ہی انتباہ کیا تھا کہ ڈینگی کے مریضوںکو اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کروائی جائیںکیونکہ وائرس کو ختم کرنا بعض وائرل ڈیزیزز میں مرض کی بجائے مریض کو ختم کرنا ہے یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی دنیا بھر کے معالجین کے کام آ رہی ہے کہ صرف جراثیم اور وائرس کے خاتمے پر زور دینے کی بجائے مدافعتی نظام کے غلبہ کیلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔ڈینگی وائرس میںانارو سیب کاجوس شہد اور پپیتے کے پتوں سے شفا یابی اس کی واضح مثال ہے۔ لہذا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان کی ہدائت کے مطابق محکمہ ہیلتھ پنجاب ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی تربیت کیلئے طب یونانی کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرے۔



مکمل تحریر اور تبصرے >>>