میرے بارے میں

ذیابیطس کیلئے سفید موصلی انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی :حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور13نومبر:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام ''ذیابیطس اورنباتاتی ادویات''کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ذیابیطس کیلئے معروف جڑی بوٹی سفید موصلی انتہائی موثرہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹر کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق موصلی سفید ذیابیطس سے لڑنے میںبے حد مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی غذائیں جن میں فائبر زیادہ ہوتا ہے ناصرف بھوک کی اشتہا میں کمی لاتی ہیں بلکہ جسم کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتی ہیں جس کے تحت وہ خون میں شوگر کی سطح پر قابو رکھتی ہیںموصلی سفید اور دیگر کئی جڑی بوٹیاں ایسے تیز کاربوہائیڈریٹس مانے جاتے ہیں جو جسم میںGutہارمونزتیزی سے پھیلاتے ہوئے بھوک کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہ جڑی بوٹیاں جسم کے خلیوں میں گلوکوز بھیجنے والے ہارمون انسولین کی حساسیت میں بھی بڑھا ؤپیدا کرتی ہیں تاکہ وہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو ایک حد تک متعین رکھ سکے۔سائنس دانوں کے مطابق موصلی سفید وہ واحد ادویاتی پودہ ہے جو سیارہ مریخ کی زمین پر بھی بارآور ہو سکتا ہے یاد رہے کہ موصلی سفید شوگر سمیت پیشاب اور دیگر امراض کے حوالے سے برصغیر پاک و ہندمیں زمانہ قدیم سے مستعمل ہے جس کی افادیت کی اب سائنسی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس سلسلے میںحکومت'بیوروکریسی اورایلوپیتھک ماہرین کو تعصب کی عینک اتار کر شہید پاکستان حکیم محمد سعیدکے اتحاد ثلاثہ(ڈاکٹر'حکیم اور سائنسدان)کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے فلاح انسانیت اور عوام کی صحت کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا چاہئے۔ ایلو پیتھک طریق علاج بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں جن میں سائنسی طور پر مصدقہ موصلی سفید بھی شامل ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صبح آزادی:چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی


چودہ اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2012ء کو ہم بزدل حکمرانوں کی بدولت بالواسطہ بیرونی آقاؤں کی غلامی میں ہیں کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 بقول نثار ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے

ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2012ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے ؟؟؟’’ ۔ یا غلامی سے آزادی کےلیے دوبارہ تحریک پاکستان جیسی جدوجہد ضروری ہے۔

بقول فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض
———————-

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

رمضان اور شیطان۔۔۔۔۔


ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جب رمضان المبارک آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اورشیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1899 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1079 ) ۔
شیطانوں کے جکڑے جانے کے معنی میں علماء کرام نے کئی ایک معنی کیے ہیں :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے الحلیمی سے نقل کیا ہے کہ :
یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ جس طرح وہ عام دنوں میں مسلمانوں کوگمراہ کرسکتے ہیں رمضان میں نہیں کرسکتے کیونکہ وہ روزہ میں مشغول ہوتے ہیں جوشھوات کوختم کردیتا ہے اورقرآن مجید کی تلاوت اورذکر واذکارمیں مشغول رہنے کی بنا پر گمراہ ہونے سے بچ جاتے ہیں ۔
اورالحلیمی کے علاوہ دوسروں کا کہنا ہے کہ : اس سے بعض شیطان مراد ہیں جوکہ زيادہ سرکش قسم کے ہوں انہیں جکڑا جاتا ہے ۔۔۔۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( صفدت ) یعنی زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اورقاضي عیاض رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : یہ احتمال بھی ہےکہ اسے ظاہر اورحقیقت پر محمول کیا جائے ، اوریہ سب کچھ فرشتوں کے رمضان المبارک کے شروع ہونے کی علامت اوراس کی حرمت کی تعظيم اورشیطانوں کا مؤمنوں کواذیت دینے سے منع کرنا ہے ۔
یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں اجروثواب کی کثرت کا اشارہ ہو اورشیطانوں کا لوگوں کوگمراہ کرنا کم ہونے کی بنا پر وہ جکڑے ہوؤں کی طرح بن جائيں ۔
اس دوسرے احتمال کی تائيد مندرجہ ذیل مسلم کی روایت سے بھی ہوتی ہے :
یونس بن شھاب بیان کرتے ہیں کہ : رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، یہ بھی احتمال ہے کہ ۔۔۔۔۔ کہ شیطان لوگوں کوگمراہ کرنے اوران کے لیے شھوات کومزین کرنے سے عاجز ہونے کی بنا پر انہیں جکڑے ہوئے کہا گيا ہے۔
زين بن المنیر کہتے ہيں کہ پہلا معنی زيادہ اولی ہے اورالفاظ کو ظاہری معنی میں نہ لینے کی کوئي وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی ضرورت ہے ۔
دیکھیں فتح الباری ( 4 / 114 ) ۔
شیخ ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا معنی پوچھا گيا :
( اورشیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ) ۔
اس فرمان کے باوجود ہم دیکھتے ہيں کہ ماہ رمضان میں دن کے وقت بھی بہت سے لوگ جنوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں ، تولوگوں کے اس دوروں کے باوجود شیطان کا جکڑا جانا کس طرح ہوگا ؟
توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
بعض روایات میں ہیں کہ : ( اس میں سرکش قسم کے شیطان جکڑے دیے جاتے ہیں ) ( یا انہیں بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ) امام نسائی رحمہ اللہ تعالی نے اسے روایت کیا ہے ۔
اس طرح کی احادیث امور غیبیہ میں شامل ہوتی ہيں جن کے بارہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ انہيں تسلیم کرنا چاہیے اوران کی تصدیق کرنا ضروری ہے ، اورہمیں اس میں کچھ بھی کلام نہیں کرنی چاہیے ، کیونکہ اسی میں انسان کے دین اوراس کے انجام کی بہتری ہے ۔
اسی لیے جب عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے اپنے والد احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کو کہا کہ :
ماہ رمضان میں بھی انسان کو جن چمٹ جاتے ہیں اوروہ ان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے ، توامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے جواب میں کہا : حدیث یہی کہتی ہے اوراسی طرح حدیث میں وارد ہے ، ہم اس میں کوئي کلام نہيں کرسکتے ۔
پھرظاہر تو یہی ہےکہ انہيں لوگوں کو گمراہ کرنے سے جکڑا جاتا ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ رمضان میں خیروبھلائي کی کثرت ہوتی ہے اوراکثر لوگ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں ۔ انتھی
دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 20 ) ۔
تواس بناپر ہم یہ کہيں گے کہ شیطانوں کا جکڑا جانا حقیقی ہے جسے اللہ تعالی ہی جانتا ہے ، اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شر وبرائي کا وقوع ہی نہ ہو یا پھر لوگ معاصی و گناہ نہ کریں ۔ واللہ تعالی علم ۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے:حکیم خالد


سگریٹ پینے والانہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے :یونانی میڈیکل آفیسر

لاہور23مئی: ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس دن کومنانے کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ'کاربن مونو آکسائیڈ'اونیاایسے ٹون'نکوٹین اور تقریبا 4000دوسرے مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔ سگریٹ کی مدد سے خود کشی کرنے والا صرف اپنی سانسوں کو ہی کم نہیں کرتابلکہ اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے ہر شخص کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم انسداد تمباکو نو شی کے حوالے سے آگہی مہم کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشوں کے چھوڑے ہوئے دھوئیں میں محض آدھا گھنٹہ سانس لینے سے تمباکو نہ پینے والوں کے قلب کو خون کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے ، اس دھوئیں کی مضرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تجرباتی طور پر جن افراد نے روزانہ بیس سگریٹ پھونکے انہیں ان کے دھوئیں نے یہ تکلیف نہیں پہنچائی اور اس ماحول میں موجود ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے۔لہذاحکومت کوچاہئے کہ سگریٹ نوشی کی روک تمام کیلئے موثر اقدامات کرے اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالے دھویں سے ان لوگوں کی کثیر تعدادبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتیعالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔موجودہ صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کے باعث ہلاک ہوجائیں گے ضرور اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے تدارک کیلئے سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ سگریٹ نوشی کے اشتہارات شائع اور نشر نہ کئے جائیں۔حکومت سگریٹ نوشی خصوصاً پبلک مقامات پر پابندی نیز سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے قوانین کا سختی سے اطلاق کرے ۔تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوڈ شیڈنگ کے عوارضات سے بچاؤ کیلئے لیموں پانی اور سرکہ استعمال کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے امراض سے بچا جا سکتا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
لوڈ شیڈنگ کے عوارضات سے بچاؤ کیلئے لیموں پانی اور سرکہ استعمال کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور22مئی :کم ازکم چار گھنٹے مسلسل نیند کے بعد' گہری نیند کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جوانسانی جسم اور ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے بہت ضروری ہے لیکن یہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ حکومتی نااہلی اورلوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پاکستانی عوام کی اکثریت کو چونکہ اتنے گھنٹوں کیلئے مسلسل بجلی میسر نہیں لہذا وہ صحیح طور پر  نہیں سوسکتے اور یوں ان کی ذہنی بے چینی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے کئی قسم کے جسمانی و ذہنی امراض پیدا ہورہے ہیں۔بات بات پہ غصہ 'چڑچڑاپن'طبیعت میں بے چینی'لڑائی جھگڑے 'عدم برداشت'عدم تحفظ کا احساس اور احساس کمتری بڑھ رہی ہے۔جسمانی امراض میں ڈی ہائیڈریشن' اینزائٹی 'اسہال 'گیسٹرو 'آشوب چشم' لو لگنا 'بے ہوشی'امراض قلب'امراض جلد اور کئی قسم کی دیگرامراض میں اضافہ ہوگیاہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے مرکزی دفتر واقع 32ذیلدار روڈ اچھرہ لاہورمیںمنعقدہ ایک مجلس مذاکرہ بعنوان''بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور صحت عامہ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ان حالات میں جبکہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کی صحت کے حوالے سے بھی' اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے' احتیاطی تدابیر اپنا کراپنی مدد آپ کے تحت' صحت کا تحفظ کیاجانا چاہئے۔موجودہ حالات میںہلکے سوتی ملبوسات کا استعمال کریں۔ جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ۔پانچ وقت کا وضوغسل کا متبادل اور متعددذہنی'جسمانی و موسمی امراض کا  بہترین علاج ہے۔ کم ازکم پندرہ سے بیس گلاس روزانہ پانی کا استعمال کریں(ماسوائے گردے کے پرانے اور پچیدہ مریضوں کے)۔آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم رواں میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہئے۔لوڈ شیڈنگ موجودہ گرمی و حبس میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔پسینے کی زیادتی سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے نمکین لیموں پانی (سکنجبین)بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق' سرکہ موسم رواں کی بیشتر 'بیماریوں کا بہترین علاج ہے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے( سرکہ سینتھیٹک یعنی تیزابی یا مصنوعی نہیں ہونا چاہئے )سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کیلئے لہسن'ادرک اور پیاز کامناسب استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے مندرجہ بالا اصولوں پر عمل کریں تو یقیناہم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عوارضات اوران سے پیدا شدہ امراض سے بچ سکتے ہیں۔

٭…٭…٭
http://healthnewspaper.co.cc/    http://hakeemkhalid.tk/
news@healthlineint.co.cc
qazimakhalid@who.net
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کلونجی ایڈز کے علاج میں انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



ذیابیطس ‘بلڈ پریشر’کینسر’لیوکیمیااور اینٹی کینسرکیمیو تھراپی میں بھی کلونجی فائدہ مند ہے


لاہور:طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم )اوریونانی (ہربل ) سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں ۔کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ‘’اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے’‘یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کے بیج ‘ایچ آئی وی ایڈز ‘کینسر’لیوکیمیا’ذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائے گئے ہیں۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ ایڈز آگہی مہم کے حوالے سے کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ فلو ریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔جن سنگ’ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایڈزکے مریضوں میں ایمیون سسٹم(مدافعتی نظام) کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج سے ایڈز کے خاتمے میںیقینی پیش رفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہو رہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبر
NCT00327054

کے مطابق کلونجی کوذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززمیں فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔
٭…٭…٭
NEWS@HEALTHLINEINT.CO.CC
QAZIMAKHALID@WHO.NET
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان



World Tuberculosis Awareness Campaign 2012

دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے’ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک ‘تنگ وتاریک مکانات’ غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


لاہور:بھوک اور وزن میں کمی‘لگاتار ہلکا بخار‘بہت جلد تھکاوٹ ہونا‘خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں ۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور بیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دو لاکھ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان’ اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭


مکمل تحریر اور تبصرے >>>