گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:حکیم خالد
گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے
لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی
میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے کی
پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور
دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے عالمی یوم
گردہ کے حوالے سے ''ہیلتھ پاک '' کے زیر اہتمام
منعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں
کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج
ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے
میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں
پانی کم استعمال کریںتو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا
ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ
رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی
سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے
علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے
امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ'تخم خربوزہ اور کھیرے کا
استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند
ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ
گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ
امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭٭٭
٭٭٭

0 comments :
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔