سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو 4000مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے:حکیم خالد
سگریٹ پینے والانہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے :یونانی میڈیکل آفیسر
لاہور23مئی: ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس دن کومنانے کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ سگریٹ کا ایک کش پھیپھڑوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ'کاربن مونو آکسائیڈ'اونیاایسے ٹون'نکوٹین اور تقریبا 4000دوسرے مضر صحت مادوں سے بھر دیتا ہے۔ سگریٹ کی مدد سے خود کشی کرنے والا صرف اپنی سانسوں کو ہی کم نہیں کرتابلکہ اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے ہر شخص کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم انسداد تمباکو نو شی کے حوالے سے آگہی مہم کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشوں کے چھوڑے ہوئے دھوئیں میں محض آدھا گھنٹہ سانس لینے سے تمباکو نہ پینے والوں کے قلب کو خون کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے ، اس دھوئیں کی مضرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تجرباتی طور پر جن افراد نے روزانہ بیس سگریٹ پھونکے انہیں ان کے دھوئیں نے یہ تکلیف نہیں پہنچائی اور اس ماحول میں موجود ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے۔لہذاحکومت کوچاہئے کہ سگریٹ نوشی کی روک تمام کیلئے موثر اقدامات کرے اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالے دھویں سے ان لوگوں کی کثیر تعدادبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے جو تمباکو نوشی نہیں کرتیعالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔موجودہ صدی میں ایک ارب افراد تمباکو نوشی سے متعلق امراض کے باعث ہلاک ہوجائیں گے ضرور اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے تدارک کیلئے سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ سگریٹ نوشی کے اشتہارات شائع اور نشر نہ کئے جائیں۔حکومت سگریٹ نوشی خصوصاً پبلک مقامات پر پابندی نیز سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے قوانین کا سختی سے اطلاق کرے ۔تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔

0 comments :
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔