میرے بارے میں

ذیابیطس کیلئے سفید موصلی انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی :حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور13نومبر:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام ''ذیابیطس اورنباتاتی ادویات''کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ذیابیطس کیلئے معروف جڑی بوٹی سفید موصلی انتہائی موثرہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹر کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق موصلی سفید ذیابیطس سے لڑنے میںبے حد مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی غذائیں جن میں فائبر زیادہ ہوتا ہے ناصرف بھوک کی اشتہا میں کمی لاتی ہیں بلکہ جسم کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتی ہیں جس کے تحت وہ خون میں شوگر کی سطح پر قابو رکھتی ہیںموصلی سفید اور دیگر کئی جڑی بوٹیاں ایسے تیز کاربوہائیڈریٹس مانے جاتے ہیں جو جسم میںGutہارمونزتیزی سے پھیلاتے ہوئے بھوک کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہ جڑی بوٹیاں جسم کے خلیوں میں گلوکوز بھیجنے والے ہارمون انسولین کی حساسیت میں بھی بڑھا ؤپیدا کرتی ہیں تاکہ وہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو ایک حد تک متعین رکھ سکے۔سائنس دانوں کے مطابق موصلی سفید وہ واحد ادویاتی پودہ ہے جو سیارہ مریخ کی زمین پر بھی بارآور ہو سکتا ہے یاد رہے کہ موصلی سفید شوگر سمیت پیشاب اور دیگر امراض کے حوالے سے برصغیر پاک و ہندمیں زمانہ قدیم سے مستعمل ہے جس کی افادیت کی اب سائنسی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس سلسلے میںحکومت'بیوروکریسی اورایلوپیتھک ماہرین کو تعصب کی عینک اتار کر شہید پاکستان حکیم محمد سعیدکے اتحاد ثلاثہ(ڈاکٹر'حکیم اور سائنسدان)کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے فلاح انسانیت اور عوام کی صحت کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا چاہئے۔ ایلو پیتھک طریق علاج بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں جن میں سائنسی طور پر مصدقہ موصلی سفید بھی شامل ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>