میرے بارے میں

روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے
اولاد کی نعمت سے محروم اور موٹاپے کی شکار خواتین ضرور روزے رکھیں
روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور: دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںجسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل' ڈاکٹر جوزف' ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر'ڈاکٹر ایم کلائیو'ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ'ڈاکٹر جیکب 'ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ'ڈاکٹر برام جے 'ڈاکٹر ایمرسن' ڈاکٹرخان یمر ٹ 'ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس و اعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور معروف یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ماہ صیام کی آمد کے موقع پرکونسل ہذا کے زیراہتمام ایک مجلس مذاکرہ بعنوان'' روزہ اور جدید سائنس'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیںوہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے 'یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

 روزہ موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام ہضم کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلا ًسموسے' پکوڑے 'کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل 'کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>