میرے بارے میں

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی خالد


چھوتدار مرض ہے'بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور:وطن عزیزمیں برسات 'لوڈ شیڈنگ'شدید گرمی'حبس اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے لاہور سمیت دیگرکئی شہر وں میں بھی آشوب چشم کی وبا پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے' بڑے'مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم طویل دورانئے کی لوڈ شیڈنگ اور شدید مرطوب گرمی بھی آشوب چشم کی وباء پھیلانے کااہم سبب ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں 'خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہویا عرق گلاب سے تیار کی گئی ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی'حبس اور بارش کے بعد آلودہ پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس زیادہ نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے'رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پرہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میںمندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سترہ رمضان...یوم الفرقان:نزول قرآن اور غزوہ بدر کادن

سترہ رمضان المبارک تمام دنیائے انسانیت اور مسلم امہ کےلیےانتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن نزول قرآن کی ابتدا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کہ جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالی نے اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔

 جبکہ رمضان المبارک کی سترہ ١٧ تاریخ کو غزوہ بدر کا واقعہ بھی ہوا جو تاریخ اسلام کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کےافق پر توحید کامل کا آفتاب پورے عالم پر ہمیشہ کےلیےطلوع ہوگیا اسی لیےقرآن مجید نےغزوہ بدر کا نام یوم الفرقان یعنی فیصلےکا دن رکھا ہےکہ وہ آخری فیصلہ کا دن تھا۔یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔امت مسلمہ کو غزوہ بدر کےحقائق اور تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیےاور اس کےمقاصد اور نصب العین کو چراغ راہ بنانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ایک صحت مند معاشرے کےلئے۔۔۔۔ ہمیں احتجاجی طریق کار ہر صورت بدلنا ہوں گے۔


 ماحولیاتی آلودگی'کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد
 ٹائر جلانے سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز وجود میں آتے ہیں: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

 ماحولیاتی آلودگی'دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے۔ گاڑیوں کے دھویں سے خارج ہونے والاکاربن مونو آکسائیڈ'سیسہ 'نائٹروجن اور سلفر آکسائیڈ'سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر'ہسپتالوں کا کچرا 'سرنجیں'استعمال شدہ بوتلیں'مضرِصحت کیمیائی کچرا'چمڑے کی فیکٹریوں کی آلودگی 'کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں خاص طور پر احتجاج کے موقع پر ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے ہائڈروکاربن اور دیگر کیمیکلز وجود میں آتے ہیںجو آنکھوں 'ناک' گلے اور پھیپھڑوں کے متعدد امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کا سبب بھی بنتے ہیں۔ٹائر جلانے سے نہ تو لوڈشیڈنگ میں فرق پڑاہے نہ کشمیر آزاد ہو جائے گانہ ہی اس سے معصوم فلسطینیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا اظہار ہے البتہ اس اقدام سے ہم اپنے ہی لوگوں کو ضرور نقصان پہنچاتے ہیں۔احتجاج کی افادیت اور ضرورت سے کسی طور انکار ممکن نہیں زندہ قومیں احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن ہمیں اپنے معصوم بچوں اور بڑوں کی صحت کیلئے احتجاجی طریق کار بدلنا ہوں گے۔معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیں بلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔صحت مند پاکستانی معاشرے کیلئے طبی ایسوسی ایشنوں اوردیگرتمام این جی اوز کو بھی کینسر کے بارے میں آگہی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعوربیدارکرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ #
( ''ہیلتھ پاک'' کے زیر اہتمام کینسراور ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں شعور و آگہی مہم کے حوالے سے منعقدہ ایک مجلس مذاکرہ سے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کا خطاب)

٭…٭…٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد


سوتی ملبوسات استعمال کریں'پانی ابال کر پیئں'لیموں پانی اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریں
سرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے :کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


لاہور22مئی: اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا'بھوک کی کمی 'سردرد'صفراوی بخار'گھبراہٹ 'خفقان' ٹائیفائڈ'پھوڑے پھنسیاں'ہیپاٹائٹس 'یرقان 'گیسٹرو'ہیضہ' اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی'بزوری 'صندل' فالسہ اور نیلوفر کا شربت 'لیموں پانی' تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی 'نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان'' موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ 'تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی 'گیسٹرو'اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔



سوشل میڈیا پر ایک اسٹیٹس کے جواب پر مختصر مکالمہ ہوا پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ اپنا اظہار خیال ۔۔۔۔۔نذر قارئین
ہے۔۔
Hakim Khalid
بلاگنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا۔۔۔۔کی خوبصورتی اور طاقت۔۔۔۔۔غیر منظم اور انفرادی سوچوں کے اظہار میں ہی پنہاں ہے۔۔۔۔۔۔اسے منظم کرنے والے کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں ۔۔پاکستان میں۔۔۔اس حوالہ سے" غیر منظم ہونے کی خاصیت کا ختم ہونا" ۔۔۔۔۔۔ان جدید صحافتی اصناف کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Fahad Kehar
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن ہم کسی تنظیمی یا ضابطہ اخلاق کے بندھن میں نہیں باندھ رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک پلیٹ فارم بنائیں جو بلاگنگ اور سوشل میڈيا میں اردو استعمال کرنے والوں کے لیے کارآمد ہو۔

Hakim Khalid
اپنے بلاگ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز۔۔۔۔۔ کیا کم ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد بھائی
جس طرح بعض افراد ۔۔۔۔۔ لوگوں کے انگلش کے الفاظ درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح اب اردو کی املاء درست کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔جبکہ الفاظ کے اندر چھپے۔۔۔۔۔۔ مفہوم کا ادراک کیا جاتا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔اعلی اردو دانی ۔۔۔۔۔اظہار رائے کےلئے ضروری نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاط بھی بہت اچھا پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو معاشرے کےلئے اہم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
حکیم صاحب، گویا آپ کا کہنا ہے کہ الٹی سیدھی جیسی تیسی اردو لکھی جا رہی ہے تو لکھی جاتی رہے، اس کی درستی کی ضرورت نہیں ہے؟

Hakim Khalid
جی بالکل ۔۔۔۔۔عمار بھائی۔۔۔۔اظہاررائے کو اردو دانی کے قواعدوضوابط کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اردو میں ایک وسعت ہے۔۔۔اور یہ کئی زبانوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ زبان پرانے الفاظ متروک کرکے۔۔۔۔۔۔ نئے الفاظ خواہ وہ کسی بھی زبان سے متعلقہ ہوں ۔۔۔(آپ کے نا چاہتے ہوئے بھی) محفوظ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں روک سکتے ۔دہلی کی اردو۔۔۔۔۔الہ آباد کی اردو۔۔۔۔۔کو آپ موجودہ دور میں مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
بات دہلی کی اردو اور لکھنو کی اردو کی نہیں ہے۔ اگر میں قواعد و انشا سے بے پروا ہوکر اردو لکھنے لگوں تو آپ میرا پیغام سمجھ بھی نہ سکیں۔ کسی کے لیے کہی گئی بات کو اپنے اوپر منطبق کرلیں۔ اور بات تو وہی اثر رکھتی ہے جو عمدہ پیرائے میں کہی گئی ہو۔ اب کوئی یہ اعتراض کر دے کہ بیمار افراد بھی اس کائنات کا حسن ہیں اور ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے، آپ کون ہوتے ہیں جو ان کا علاج کریں تو بتائیے کیسا لغو اعتراض مانا جائے گا۔ سیکھنے کا عمل زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ جس نے سیکھنا ہو سیکھ لے، جو نہ چاہے نہ سیکھے۔

Hakim Khalid
یہی وجہ ہے کہ ایک سطحی تعلیم کے حامل رپورٹر کی۔۔۔۔۔۔ رپورٹنگ حالا ت و واقعات کی آگاہی کے حوالہ سے۔۔۔۔ انتہائی بہتر اور زیادہ پر اثرہوتی ہے۔۔(حالانکہ بعض اوقات اس کے الفاظ پر ہنسی آتی ہے)۔۔۔بہ نسبت ماس کمیونی کیشن ماسٹر یا اعلی تعلم یافتہ کے۔۔۔۔۔۔جو الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں اصل واقعات کی ہو بہو عکاسی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار رائے کو کسی بھی قسم کے قواعدو ضوابط میں منضبط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض امراض میں ۔۔۔۔۔۔۔علاج کے حوالہ سے زبردستی۔۔۔۔۔اور مریض کو گھر کے ماحول سے ۔۔۔۔۔۔ہسپتال لا پھینکنا۔۔۔ اسے مزید بیمار کر دیتاہے۔۔۔اور اسے ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں جکڑ کر اسے وقت سے پہلے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکھنا ہی اگر ہو تو دوسروں کی کم علمی ٗجہل اورغلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

Ammar IbneZia
بہرحال، اپنی اپنی رائے ہے۔ اور یہ رائے کا ایسا اختلاف نہیں جس سے دلوں میں کدورتیں پیدا ہوں۔

  دلوں میں کدورتیں پیدا نہ ہوں اس لئے ہم جزوی اتفاق کرلیتے ہیں کہ اردو قواعدو انشاء کے قوانین کو مدنطر رکھتے ہوئے تحریر لکھی جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس اصول کا نفاذ صرف اخبارات کے ادارتی شعبہ تک ہی محدود ہو (جو پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں)۔۔۔۔۔۔۔لیکن عام رپورٹنگ ۔۔۔۔بلاگنگ ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس کی پابندی لازم نہین۔۔کیونکہ۔۔۔صرف اینگلینڈ اور عرب اسٹیٹس کے کچھ بلاگرز ہوں گے جو اپنی تحریروں میں اپنی زبان کی گرائمر کا خیال رکھتے ہوں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دنیا بھر کے بلاگرز کی تحریریں اپنے آپ کو قواعدو انشاء کے اصولوں میں مقید نہیں کرتیں۔۔۔۔۔لہذا یہ اصول صرف اردو بلاگرز پر ہی کیوں لاگو ہو۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس سے ہمارے محترم بلاگرز کی تحریروں میں "بلاگیاں شلاگیاں " ختم ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔۔سنجیدگی اچھی بات ہے لیکن انسان غیر سنجیدگی سے جو کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔سنجیدگی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے محترم اردو بلاگرز اردو قواعدو انشاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی تحریروں میں پنجابی ،سندھی، بلوچی، پشتو ،کشمیری سمیت متعدد زبانوں اور بعض اوقات خود ساختہ زبانوں کے الفاظ کا "تڑکا" لگاتے ہیں تو "ریسیپی" بہترین بنتی ہے۔۔۔۔اور سب کو پسند بھی آتی ہے۔۔۔یہی حال اردو داں سیاست دانوں کا ہے جو اینگلینڈ میں بیٹھ کر اپنی اردو تقریر میں جب پنجابی بھڑکیں لگاتے ہیں تو عوام بہت محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی صرف ایک پنجابی بھڑک پوری تقریر کو یاد رکھنے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔مختصراً یہ کہ غیر سنجیدگی کے پیچھے جو سنجیدہ پیغام چھپا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے قارئین اسے بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ اب اخبارات کی غیر سنجیدہ اور حقیقت سے کسی حد تک دور "سرخیاں" (جس کا سمٹ میں برا منایا گیا)عوام الناس کو زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور وہ پوری خبر پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔۔(یہ طریقہ "اردو پوائنٹ" سمیت متعدد سائٹس نے بھی اپنایا ۔۔۔۔اور اپنی ویب سائٹ تک قارئین کو لانے میں بہت حد تک کامیاب ہین۔)

سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی تحریریں ۔۔۔۔آزاد ہوتی ہیں۔۔۔۔۔انہیں آزاد ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔جہاں انسانیت کا استحصال ہو رہا ہو ۔۔۔۔وہاں زبانوں کا استحصال ایک بے معنی اور ضمنی سی چیز ہے۔۔۔۔عجیب اردوداں دانشور ہیں کہتے ہیں زباں بگڑی تو شخصیت بگڑ جاتی ہے ۔۔میں کہتا ہوں کہ معاشرہ بگڑنے پہ تو معترض نہین یہ دانشور ۔۔۔۔اور زباں بگڑنے پر کس قدر نوحہ کناں ہیں۔۔۔جب معاشرے کے بگاڑ کے بارے میں بات ہوتی ہے۔۔۔تو انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔۔۔اور جب انسان جذباتی ہوتا ہے تو وہ نون یا نون غنے کا خیال نہیں رکھتا ۔۔الف کی جگہ عین اس کے کی بورڈ سے نکلنا فطری ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنی رائے کا اظہار کر ڈالتا ہے تو اس کی طبیعت میں ایک سکون آ جاتا ہے یہ سکون اسے پرنٹ میڈیا کے قواعدو ضوابط میں نہیں مل سکتا ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں وہ مکمل اظہار نہین کر پاتا ۔۔۔۔۔تمام قواعدو ضوابط سے آزاد اس لئے بھی ہونا ضروری ہیں کہ کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔بیشتر پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔قواعدو انشاء کا خیال رکھنے والی ایک اچھی تحریر فوراً کاپی ہو کر انپیج کنورٹ ۔۔۔۔۔اور اگلے دن کسی اور نام سے اخبار کی زینت۔۔۔۔۔۔۔اب جو تحریر غیر سنجیدگی کا عنصر لئے ہوئے ہو گی ۔۔۔۔۔وہ اس تحریری سرقہ سے بھی محفوظ رہے گی۔آخر میں۔۔۔۔۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔بلاگنگ اورسوشل میڈیا  کا محتاج ہونا چاہئیے ناکہ بلاگر اور سوشل میڈیا ان کی جھولی میں جا گرے ۔۔۔۔وہ "دھوتی مین " پر تبصرہ تو رہ ہی گیا ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اسے بغیر تبصرہ کے ہی رہنے دیتے ہین۔۔۔۔
تاہم ایک مرتبہ پھر کہوں گا۔۔۔۔۔۔بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عصری تعلیم لازم مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی واخلاقی تعلیم کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔


حکیم قاضی ایم اے خالد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہذیب، اخلاق، تمدن، انسانیت، شرافت، نیکی، بھلائی اور خیرخواہی فطرت کا اصل حصہ ہیں۔ تعلیم سے جس میں جلا پیدا ہوتی ہے، اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم ایک انسان کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم سے تہذیب و تمدن کا رشتہ جڑا ہوا ہے، جہاں تعلیم ہوگی وہاں انسانیت زندہ ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نبی پاک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے تک جہالت کا دور دورہ تھا۔ دور جاہلیت کی پہچان علم کے فقدان سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے اپنی پہلی وحی میں علم و قلم کا ذکر فرماکر لکھنے پڑھنے کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں جس علم کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ علم نافع ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن پاک نازل ہوا، اس کی ایک معجزانہ شان یہ ہے کہ وہ علوم و فنون کا گنجینہ اور معارف و اسرار کا خزینہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تعلیم کو اگر مغرب زدگی کا دیمک لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تہذیب و تمدن کو خیرباد کہہ دیتی ہے۔ایسی تعلیم اخلاقی زوال کے سارے راستے کھول دیتی ہے۔ اور انسانی اقدار کو پامال کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب سے دوری اور اخلاق سے عاری تعلیم اخلاقی خرابیوں کے راستے بناتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری عادات کو اپنانے کے جواز تلاش کرکے خود کو اور دوسروں کو گمراہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصری علوم کے ساتھ اسلامی و اخلاقی تعلیم کا حصول بھی لازم ہے۔ مغرب زدہ مذہب بیزار افراد اور مغرب زدہ تہذیب نے مذہب و اخلاق سے دوری کا نام ترقی رکھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے'ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک 'تنگ وتاریک مکانات 'غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
 غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور15مارچ:بھوک اور وزن میں کمی'لگاتار ہلکا بخار'بہت جلد تھکاوٹ ہونا'خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں لعوق خیارشنبر اسکا قدیم مرکب ہے۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور تیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان'اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:حکیم خالد

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے
لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے کی پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے حوالے سے ''ہیلتھ پاک '' کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں پانی کم استعمال کریںتو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ'تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭٭٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے:حکیم خالد


لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے جو صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے اب اسکی تصدیق نیویارک امریکہ میںایک طبی تحقیق نے بھی کر دی ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے موقع پرمنعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں میں لیموں کی اسکنج بین نہ صرف ترو تازگی کا احساس بخشتی ہے بلکہ گردے کی بیماریوں سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔امریکہ میں گردے کے ا مراض میں مبتلا افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں کا رس گردے میں پتھری بننے کا عمل انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود Citrate کا تناسب کسی بھی دوسرے Citrus Fruit کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر گردے میں بننے والی پتھری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ دو لیٹر پانی میں چارعدد لیموں کا رس ملا کر باقائدگی سے پینے سے گردے کا نظام موثر انداز میں کام کرتا ہے ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>