میرے بارے میں

عصری تعلیم لازم مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی واخلاقی تعلیم کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔


حکیم قاضی ایم اے خالد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہذیب، اخلاق، تمدن، انسانیت، شرافت، نیکی، بھلائی اور خیرخواہی فطرت کا اصل حصہ ہیں۔ تعلیم سے جس میں جلا پیدا ہوتی ہے، اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم ایک انسان کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم سے تہذیب و تمدن کا رشتہ جڑا ہوا ہے، جہاں تعلیم ہوگی وہاں انسانیت زندہ ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نبی پاک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے تک جہالت کا دور دورہ تھا۔ دور جاہلیت کی پہچان علم کے فقدان سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے اپنی پہلی وحی میں علم و قلم کا ذکر فرماکر لکھنے پڑھنے کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں جس علم کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ علم نافع ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن پاک نازل ہوا، اس کی ایک معجزانہ شان یہ ہے کہ وہ علوم و فنون کا گنجینہ اور معارف و اسرار کا خزینہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تعلیم کو اگر مغرب زدگی کا دیمک لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تہذیب و تمدن کو خیرباد کہہ دیتی ہے۔ایسی تعلیم اخلاقی زوال کے سارے راستے کھول دیتی ہے۔ اور انسانی اقدار کو پامال کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب سے دوری اور اخلاق سے عاری تعلیم اخلاقی خرابیوں کے راستے بناتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری عادات کو اپنانے کے جواز تلاش کرکے خود کو اور دوسروں کو گمراہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصری علوم کے ساتھ اسلامی و اخلاقی تعلیم کا حصول بھی لازم ہے۔ مغرب زدہ مذہب بیزار افراد اور مغرب زدہ تہذیب نے مذہب و اخلاق سے دوری کا نام ترقی رکھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے'ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک 'تنگ وتاریک مکانات 'غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
 غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور15مارچ:بھوک اور وزن میں کمی'لگاتار ہلکا بخار'بہت جلد تھکاوٹ ہونا'خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں لعوق خیارشنبر اسکا قدیم مرکب ہے۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور تیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان'اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:حکیم خالد

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے
لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے کی پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے حوالے سے ''ہیلتھ پاک '' کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں پانی کم استعمال کریںتو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ'تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭٭٭

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے:حکیم خالد


لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے جو صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے اب اسکی تصدیق نیویارک امریکہ میںایک طبی تحقیق نے بھی کر دی ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے موقع پرمنعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں میں لیموں کی اسکنج بین نہ صرف ترو تازگی کا احساس بخشتی ہے بلکہ گردے کی بیماریوں سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔امریکہ میں گردے کے ا مراض میں مبتلا افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں کا رس گردے میں پتھری بننے کا عمل انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود Citrate کا تناسب کسی بھی دوسرے Citrus Fruit کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر گردے میں بننے والی پتھری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ دو لیٹر پانی میں چارعدد لیموں کا رس ملا کر باقائدگی سے پینے سے گردے کا نظام موثر انداز میں کام کرتا ہے ۔
٭…٭…٭
مکمل تحریر اور تبصرے >>>