میرے بارے میں

Monday, 11 May 2015

بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔



سوشل میڈیا پر ایک اسٹیٹس کے جواب پر مختصر مکالمہ ہوا پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ اپنا اظہار خیال ۔۔۔۔۔نذر قارئین
ہے۔۔
Hakim Khalid
بلاگنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا۔۔۔۔کی خوبصورتی اور طاقت۔۔۔۔۔غیر منظم اور انفرادی سوچوں کے اظہار میں ہی پنہاں ہے۔۔۔۔۔۔اسے منظم کرنے والے کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں ۔۔پاکستان میں۔۔۔اس حوالہ سے" غیر منظم ہونے کی خاصیت کا ختم ہونا" ۔۔۔۔۔۔ان جدید صحافتی اصناف کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Fahad Kehar
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن ہم کسی تنظیمی یا ضابطہ اخلاق کے بندھن میں نہیں باندھ رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک پلیٹ فارم بنائیں جو بلاگنگ اور سوشل میڈيا میں اردو استعمال کرنے والوں کے لیے کارآمد ہو۔

Hakim Khalid
اپنے بلاگ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز۔۔۔۔۔ کیا کم ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد بھائی
جس طرح بعض افراد ۔۔۔۔۔ لوگوں کے انگلش کے الفاظ درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح اب اردو کی املاء درست کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔جبکہ الفاظ کے اندر چھپے۔۔۔۔۔۔ مفہوم کا ادراک کیا جاتا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔اعلی اردو دانی ۔۔۔۔۔اظہار رائے کےلئے ضروری نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاط بھی بہت اچھا پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو معاشرے کےلئے اہم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
حکیم صاحب، گویا آپ کا کہنا ہے کہ الٹی سیدھی جیسی تیسی اردو لکھی جا رہی ہے تو لکھی جاتی رہے، اس کی درستی کی ضرورت نہیں ہے؟

Hakim Khalid
جی بالکل ۔۔۔۔۔عمار بھائی۔۔۔۔اظہاررائے کو اردو دانی کے قواعدوضوابط کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اردو میں ایک وسعت ہے۔۔۔اور یہ کئی زبانوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ زبان پرانے الفاظ متروک کرکے۔۔۔۔۔۔ نئے الفاظ خواہ وہ کسی بھی زبان سے متعلقہ ہوں ۔۔۔(آپ کے نا چاہتے ہوئے بھی) محفوظ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں روک سکتے ۔دہلی کی اردو۔۔۔۔۔الہ آباد کی اردو۔۔۔۔۔کو آپ موجودہ دور میں مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ammar IbneZia
بات دہلی کی اردو اور لکھنو کی اردو کی نہیں ہے۔ اگر میں قواعد و انشا سے بے پروا ہوکر اردو لکھنے لگوں تو آپ میرا پیغام سمجھ بھی نہ سکیں۔ کسی کے لیے کہی گئی بات کو اپنے اوپر منطبق کرلیں۔ اور بات تو وہی اثر رکھتی ہے جو عمدہ پیرائے میں کہی گئی ہو۔ اب کوئی یہ اعتراض کر دے کہ بیمار افراد بھی اس کائنات کا حسن ہیں اور ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے، آپ کون ہوتے ہیں جو ان کا علاج کریں تو بتائیے کیسا لغو اعتراض مانا جائے گا۔ سیکھنے کا عمل زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ جس نے سیکھنا ہو سیکھ لے، جو نہ چاہے نہ سیکھے۔

Hakim Khalid
یہی وجہ ہے کہ ایک سطحی تعلیم کے حامل رپورٹر کی۔۔۔۔۔۔ رپورٹنگ حالا ت و واقعات کی آگاہی کے حوالہ سے۔۔۔۔ انتہائی بہتر اور زیادہ پر اثرہوتی ہے۔۔(حالانکہ بعض اوقات اس کے الفاظ پر ہنسی آتی ہے)۔۔۔بہ نسبت ماس کمیونی کیشن ماسٹر یا اعلی تعلم یافتہ کے۔۔۔۔۔۔جو الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں اصل واقعات کی ہو بہو عکاسی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار رائے کو کسی بھی قسم کے قواعدو ضوابط میں منضبط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض امراض میں ۔۔۔۔۔۔۔علاج کے حوالہ سے زبردستی۔۔۔۔۔اور مریض کو گھر کے ماحول سے ۔۔۔۔۔۔ہسپتال لا پھینکنا۔۔۔ اسے مزید بیمار کر دیتاہے۔۔۔اور اسے ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں جکڑ کر اسے وقت سے پہلے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکھنا ہی اگر ہو تو دوسروں کی کم علمی ٗجہل اورغلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

Ammar IbneZia
بہرحال، اپنی اپنی رائے ہے۔ اور یہ رائے کا ایسا اختلاف نہیں جس سے دلوں میں کدورتیں پیدا ہوں۔

  دلوں میں کدورتیں پیدا نہ ہوں اس لئے ہم جزوی اتفاق کرلیتے ہیں کہ اردو قواعدو انشاء کے قوانین کو مدنطر رکھتے ہوئے تحریر لکھی جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس اصول کا نفاذ صرف اخبارات کے ادارتی شعبہ تک ہی محدود ہو (جو پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں)۔۔۔۔۔۔۔لیکن عام رپورٹنگ ۔۔۔۔بلاگنگ ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس کی پابندی لازم نہین۔۔کیونکہ۔۔۔صرف اینگلینڈ اور عرب اسٹیٹس کے کچھ بلاگرز ہوں گے جو اپنی تحریروں میں اپنی زبان کی گرائمر کا خیال رکھتے ہوں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دنیا بھر کے بلاگرز کی تحریریں اپنے آپ کو قواعدو انشاء کے اصولوں میں مقید نہیں کرتیں۔۔۔۔۔لہذا یہ اصول صرف اردو بلاگرز پر ہی کیوں لاگو ہو۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس سے ہمارے محترم بلاگرز کی تحریروں میں "بلاگیاں شلاگیاں " ختم ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔۔سنجیدگی اچھی بات ہے لیکن انسان غیر سنجیدگی سے جو کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔سنجیدگی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے محترم اردو بلاگرز اردو قواعدو انشاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی تحریروں میں پنجابی ،سندھی، بلوچی، پشتو ،کشمیری سمیت متعدد زبانوں اور بعض اوقات خود ساختہ زبانوں کے الفاظ کا "تڑکا" لگاتے ہیں تو "ریسیپی" بہترین بنتی ہے۔۔۔۔اور سب کو پسند بھی آتی ہے۔۔۔یہی حال اردو داں سیاست دانوں کا ہے جو اینگلینڈ میں بیٹھ کر اپنی اردو تقریر میں جب پنجابی بھڑکیں لگاتے ہیں تو عوام بہت محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی صرف ایک پنجابی بھڑک پوری تقریر کو یاد رکھنے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔مختصراً یہ کہ غیر سنجیدگی کے پیچھے جو سنجیدہ پیغام چھپا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے قارئین اسے بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ اب اخبارات کی غیر سنجیدہ اور حقیقت سے کسی حد تک دور "سرخیاں" (جس کا سمٹ میں برا منایا گیا)عوام الناس کو زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور وہ پوری خبر پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔۔(یہ طریقہ "اردو پوائنٹ" سمیت متعدد سائٹس نے بھی اپنایا ۔۔۔۔اور اپنی ویب سائٹ تک قارئین کو لانے میں بہت حد تک کامیاب ہین۔)

سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی تحریریں ۔۔۔۔آزاد ہوتی ہیں۔۔۔۔۔انہیں آزاد ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔جہاں انسانیت کا استحصال ہو رہا ہو ۔۔۔۔وہاں زبانوں کا استحصال ایک بے معنی اور ضمنی سی چیز ہے۔۔۔۔عجیب اردوداں دانشور ہیں کہتے ہیں زباں بگڑی تو شخصیت بگڑ جاتی ہے ۔۔میں کہتا ہوں کہ معاشرہ بگڑنے پہ تو معترض نہین یہ دانشور ۔۔۔۔اور زباں بگڑنے پر کس قدر نوحہ کناں ہیں۔۔۔جب معاشرے کے بگاڑ کے بارے میں بات ہوتی ہے۔۔۔تو انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔۔۔اور جب انسان جذباتی ہوتا ہے تو وہ نون یا نون غنے کا خیال نہیں رکھتا ۔۔الف کی جگہ عین اس کے کی بورڈ سے نکلنا فطری ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنی رائے کا اظہار کر ڈالتا ہے تو اس کی طبیعت میں ایک سکون آ جاتا ہے یہ سکون اسے پرنٹ میڈیا کے قواعدو ضوابط میں نہیں مل سکتا ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں وہ مکمل اظہار نہین کر پاتا ۔۔۔۔۔تمام قواعدو ضوابط سے آزاد اس لئے بھی ہونا ضروری ہیں کہ کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔بیشتر پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔قواعدو انشاء کا خیال رکھنے والی ایک اچھی تحریر فوراً کاپی ہو کر انپیج کنورٹ ۔۔۔۔۔اور اگلے دن کسی اور نام سے اخبار کی زینت۔۔۔۔۔۔۔اب جو تحریر غیر سنجیدگی کا عنصر لئے ہوئے ہو گی ۔۔۔۔۔وہ اس تحریری سرقہ سے بھی محفوظ رہے گی۔آخر میں۔۔۔۔۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔بلاگنگ اورسوشل میڈیا  کا محتاج ہونا چاہئیے ناکہ بلاگر اور سوشل میڈیا ان کی جھولی میں جا گرے ۔۔۔۔وہ "دھوتی مین " پر تبصرہ تو رہ ہی گیا ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اسے بغیر تبصرہ کے ہی رہنے دیتے ہین۔۔۔۔
تاہم ایک مرتبہ پھر کہوں گا۔۔۔۔۔۔بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔

19 comments :

harfe arzoo نے لکھا ہے

حکیم صاحب آپ کی باتیں بجا کہ تنظیمی صلاحیتوں میں ڈھلنا بلاگرز کیلئے ممکن نہیں بلکہ اس سے فتنے ہی جنم لیں گے لیکن اس طرح کے پروگرامات مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کا موقف سننے اور ان کی آرائ کو سمجھنے اپنی بات سمجھانے کا نادر موقع ہوتے ہیں، رہی بات معاشروں کے بگڑنے کی تو یقین جانئے زبانیں بگڑتی ، شخصیات پر اثر انداز ہو کہ انہیں بگاڑتی اور معاشروں کو بگاڑ ڈالتی ہیں

11 May 2015 at 09:27
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

اسلم فہیم صاحب۔۔۔۔۔۔۔شکریہ جزوی طور پر۔۔۔ اتفاق کےلئے۔۔۔۔۔
ان لوگوں کا موقف اور آراء۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔جو کہہ رہے ہیں کہ ہم معاشرے سے انتقام لے رہے ہین۔۔۔۔۔ان کی اردو بڑی بہترین اور قواعدو انشاء کے مطابق کے ہے۔۔۔۔۔اور بی بی سی کے لکھاری ہیں۔۔۔۔۔۔(ان کی بیشتر تحریریں واقعی پاکستانی معاشرے سے انتقام لے رہی ہیں)

کراچی میں بہت شستہ اور قواعد و انشاء کے مطابق اردو بولی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہاں معاشرے میں بگاڑ کیوں ہے۔؟؟؟

پاکستان کی سرکاری زبان تو انگلش ہے۔۔۔۔۔اس کی گرائمر درست کرکے کون سے معاشرے کو درست کرین گے۔۔۔

پاکستانی معاشرے کا بگاڑ درست کرنے کےلئے کون سی زبان کی گرائمر درست کریں گے۔۔۔۔۔اردو۔۔۔۔پنجابی۔۔۔۔سندھی۔۔۔۔۔پشتو۔۔۔۔۔بلوچی۔۔۔۔۔کشمیری۔۔۔؟؟؟

ایک فرد کو تکلیف لاحق ہے ۔۔۔۔بری طرح سے رو رہا ہے۔۔۔۔آپ کو رونے کا انداز پسند نہیں ۔۔۔۔تو کیا رونے کے آداب سکھائیں گے۔۔۔۔۔۔یا تکلیف رفع کریں گے؟؟؟

11 May 2015 at 11:05
Ammar Zia نے لکھا ہے

کونسل آف ہربل فزیشنز کیوں قائم کی گئی ہے؟ وہ آئے دن سیمینار کیوں منعقد کرواتی ہے؟ وہ حکیموں کو آزاد کیوں رہنے نہیں دیتی؟ اُنھیں ایک دھارے میں کیوں لانا چاہتی ہے؟
اور جہاں تک بات ہے، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی کہ انھیں سوشل میڈیا کا محتاج ہونا چاہیے تو اگر آپ نے اس سمٹ اور اس سے پہلے دوسری تقاریب میں شرکت کی ہوتی تو یقیناً آپ کو بھی میڈیا کے افراد سے یہ سوال پوچھنے یا یہ شکوہ کرنے کا موقع مل جاتا کہ جس طرح دنیا بھر کا میڈیا بلاگروں کو اہمیت دیتا ہے، پاکستانی میڈیا کیوں نہیں دیتا۔ ایسے مواقع میں شریک ہوئے بغیر تو آپ یہ بات میڈیا تک نہیں پہنچا سکتے۔ ہماری جانب سے پہلے بھی مختلف اجلاسوں میں شرکت کرکے یہ بات کی جاتی رہی ہے اور اس بار بھی کی گئی۔ اور اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ایکسپریس کے بلاگ سیکشن کے نگران اس سمٹ میں بذات خود موجود تھے، اُنھوں نے بلاگروں سے ملاقات کی اور اُنھیں ایکسپریس پر بلاگ لکھنے کی دعوت بھی دی۔
تو جناب، بات ایسے نہیں بنتی کہ آپ ایک فورم پر مل بیٹھنے کے لیے تیار بھی نہ ہوں اور پھر یہ خواہشیں بھی کرتے پھریں کہ الیکٹرونک میڈیا آپ کا محتاج ہوجائے۔

12 May 2015 at 00:30
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

عمار ابن ضیاء بھائی ۔۔۔۔۔۔کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان 30برس قبل ۔۔۔۔عوام الناس کو شعور صحت بہم پہنچانے اور تحفظ طب یونانی اسلامی مشرقی کے تحت قائم کی گئی۔۔۔۔۔۔۔سیمینارز کا مقصد افادہ عوام و تحفظ طب یونانی اسلامی مشرقی۔۔۔۔۔۔۔یہ غیر سیاسی ۔۔۔اور۔۔۔علمی تنظیم ہے۔۔۔اس پلیٹ فارم سے اب تک چھ ہزار سے زائد تحریریں میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں۔۔۔پاکستان کا کوئی حکیم یا عام فرد اس سے نالاں نہیں۔۔۔۔یہ حکیموں اور عام افراد کی آزادی کا احترام کرتی ہے۔۔۔۔انہیں ایک دھارے میں لانے کے خلاف ہے۔۔۔۔وطن عزیز میں وفاق الاطباء پاکستان ۔۔۔پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن ۔۔۔۔۔اورپاکستان طبی کانفرنس ۔۔۔۔مختلف نقطہ نظر رکھنے والی تنظیمیں ہیں۔۔۔۔۔ان سب کا بھی احترام کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاہم ان سب معاملات کا تعلق "حقیقی دنیا " سے ہے۔۔۔۔۔۔۔جبکہ سائبر ورلڈ ۔۔۔۔بلاگنگ۔۔۔سوشل میڈیا ۔۔۔۔۔غیر حقیقی دنیا سے وابستہ ہیں۔۔۔۔۔۔اسے خوابوں کی دنیا کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔اکثر جو فرد حقیقت میں نہیں حاصل کرپاتا۔۔۔۔۔خوابوں میں حاصل کرلیتا ہے۔۔۔۔۔۔خواب حقیقت کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔تو دنیا میں خواب دیکھنے والوں کی کتنی تنظیمیں ہیں۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔جو خواب دیکھنے کے قواعدو ضوابط بھی ترتیب دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

میری تنظیم اجتماعی معاملات پر مبنی ہے۔۔۔۔۔ڈائری لکھنا ۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا کا استعمال "ذاتیات" پر مبنی ہے۔۔۔ذاتیات میں دخل اندازی کے حوالہ سے دین و دنیا میں اجازت نہیں۔۔۔۔۔۔۔
لہذا کسی فرد یا تنظیم کو دخل دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ ڈائری لکھنے اور سوشل میڈیا کے استعمال کے قواعدو ضوابط سکھائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ۔۔۔الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔۔آزاد نہین رہا۔۔۔۔۔ایکسپریس میڈیا گروپ تو ویسے بھی غیر جانبدار نہیں ۔۔۔۔مخصوص ایجنڈوں کے تحت مصنوعی رائے عامہ استوارکرکے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اپنی قدر کھو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں صرف بلاگنگ ۔۔۔اور سوشل میڈیا ۔۔۔آزاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اب اسے بھی حکومتی قوانین میں جکڑنے کی تیاری ہے۔۔۔۔۔لہذا ۔۔اس حوالہ سے قواعدو ضوابط مرتب کرنے والے ۔۔۔۔حکومت کے معاون نہ بنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور بلاگنگ و سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 May 2015 at 05:51
Ammar Zia نے لکھا ہے

سائبر ورلڈ کو غیر حقیقی دنیا کہنا آج سے کم از کم ایک دہائی قبل کی باتیں ہیں۔ آج دنیا بھر میں بلاگروں اور سوشل میڈیا کے افراد کو خیالی تصور نہیں کیا جاتا۔ آپ اگر اپنی سائبر ورلڈ شناخت کو خفیہ یا خیالی یا غیر حقیقی رکھنا چاہتے ہیں تو شوق سے رکھیں، سوشل میڈیا سمٹ کے ذریعے یہ اعلان تو نہیں ہوگیا کہ بس جو اس سمٹ کو مانتے ہیں وہی بلاگر یا سوشل میڈیا کے لوگ ہیں اور یہی ایک واحد پلیٹ فارم ہے۔ ہم بھی اردو بلاگروں کی آزادی کا مکمل احترام کرتے ہیں۔
آپ سوشل میڈیا کا استعمال ’’ذاتیات‘‘ کے لیے کرتے ہیں اور آپ کے لیے بلاگ آپ کی ڈائری کی حیثیت رکھتا ہے تو آپ نے یہ کیوں فرض کرلیا کہ ہر شخص کے لیے ایسا ہی ہے؟ لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے بلاگ اُن کی ذاتی ڈائری نہیں، وہ اُسے پیشہ وارانہ انداز میں چلا رہے ہیں۔
اور جہاں تک ایکسپریس کی غیر جانبداری کا اعتراض ہے، تو یہ قوم اگر کسی ایک میڈیا گروپ، حتاکہ کسی ایک شخص کو بھی متفقہ طور پر غیر جانبدار مانتی ہو تو مجھے اُس کا نام بتادیجیے۔ مہربانی ہوگی۔

12 May 2015 at 08:41
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

عمار بھائی۔۔۔۔۔مندرجہ بالا تبصرہ میں ۔۔۔۔اجتماعی طور پر کی گئی تمام باتیں آپ نے مجھی پر تھوپ دیں ۔۔۔۔۔جس سے بہت مایوسی ہوئی۔۔۔مکالمہ میں بات کرتے ہوئے بعض اوقات اپنی علمی استعداد سے نیچے آنا پڑتا ہے۔۔۔لیکن آپ تو سیڑھی لگا کر بہت اوپر چڑھ گئے جہاں سے صرف آپ کو حکیم خالد ہی نظر آتا رہا۔۔۔۔۔۔میں (طب و صحت سے ہٹ کر) بلاگ کم و بیش ایک دہائی بعد لکھ رہا ہوں لہذا یہ میری لاعلمی ہو سکتی ہے کہ اب بلاگ کو ڈائری نہیں کہا جاتا۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کے بقول اس میں کمرشل ازم در کرگیا ہے۔۔۔۔۔۔نیز سائبر ورلڈ اب ورچوئل نہیں رہا۔۔۔۔۔

ایک جانبدار میڈیا گروپ کا تعاون ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔اسلام بیزار "دانشوروں" کی شرکت اپنی جگہ معنی خیز ہے۔۔۔۔

بہرحال یہ بات خوش آئند ہے۔۔۔۔کہ "سمٹ" کے مخاطب صرف کمرشل بلاگرز اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہم جیسے ذاتی ڈائری لکھنے والے نہیں۔۔۔۔

بات چونکہ آپ نے ذاتیات کی طرف موڑ دی لہذا مکالمے کا نیک خواہشات پر اختتام کرتا ہوں۔۔۔۔۔کہ ہمیں اجتماعی بات کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔۔۔۔۔

12 May 2015 at 11:09
Asad Aslam نے لکھا ہے

حضرت مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ بلاگر اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کی آزادی صلب کرنے کی بات کہاں ہوئی؟

12 May 2015 at 14:31
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

عزیزم محمد اسد اسلم صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔مکمل تحریر و مکالمہ پڑھئے ۔۔۔۔۔۔ضرور سمجھ آجائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے یہ تقریب اتنی ہی تحفظ بلاگراں و سوشل میڈیا تھی تو اس میں شریک تیس پینتیس بلاگران میں سے کوئی ایک تو اس حوالہ سے عوام الناس کو اپنی تحریر سے آگاہ کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کیا؟؟؟

13 May 2015 at 04:39
Asad Aslam نے لکھا ہے

میں نے مکمل مکالمہ و تحریر پڑھ کر ہی تبصرہ کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے آپ زبان کے بہتر استعمال کی تلقین کو غلط پیرائے میں لے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بلاگنگ میں اردو زبان کے درست استعمال کی تبلیغ و تلقین کوئی بری بات نہیں۔

چند بلاگ تو منظر عام پر آچکے ہیں، شاید آپ کی نظر سے نہیں گزرے۔ لنک دے رہا ہوں توقع رکھتا ہوں کہ مکمل پڑھیں کر آپ کی غلط فہمیاں بڑی حد تک دور ہوجائیں گی۔

http://www.express.pk/story/353875/
http://www.express.pk/story/355798/

13 May 2015 at 05:58
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

میں اظہار رائے کو ۔۔۔۔۔کسی بھی حوالے سے۔۔۔۔ کسی کی بھی۔۔۔۔ "تلقین" کا محتاج نہیں سمجھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ درست کہہ رہے ہیں واقعی یہ بلاگ میری نظر سے نہیں گذرے۔۔۔۔۔ویسے بھی "بلاگستان" اور "اردو سیارہ" کی فیڈ میں شامل بلاگ میرے زیر مطالعہ رہتے ہین۔

بھائی جان اپنی تعریف کسے نہیں آتی۔۔۔کہا گیا ہے کہ۔۔۔750بلاگر شریک ہوئے۔۔۔منتظمین کے علاوہ۔۔۔۔۔۔کم ازکم دس فیصد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اپنے طور پر کسی دباؤ میں آئے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دوستی بھی ایک بہت بڑا دباؤ ہے)۔۔۔عوام الناس کو "غیر جانبدارانہ" اپنی تحریروں میں اس سمٹ کے مضمرات و فوائد سے آگاہ کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو غلط فہمیاں پیدا ہی نہ ہوتیں۔۔۔۔۔۔لہذا ۔۔۔معذرت کے ساتھ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو ہم اپنے موقف پر ہی قائم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

13 May 2015 at 07:15
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

ایک بات تو بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔اردو کے خدمت گار۔۔۔۔۔۔۔۔اور تبلیغ و تلقین کرنے والے۔۔۔۔سمٹ ۔۔۔کی جگہ کوئی اردو لفظ نہیں ملا ۔۔۔کیا؟؟؟
سمٹ کے اردو معنی سے سے بھی عوام الناس روشناس ہو جائیں ۔۔۔۔تو مہربانی ہوگی

13 May 2015 at 07:39
Ammar Zia نے لکھا ہے

جانب دار میڈیا گروپ کے حوالے سے تو میں پہلے عرض کر چکا کہ کسی ایک غیر جانب دار میڈیا گروپ یا میڈیا شخصیت کا نام بتادیں تو ممنون ہوں گا، اس لیے آپ کی جانب سے اس بات کا دہرایا جانا مناسب محسوس نہیں ہوتا۔ اور ’’اسلام بیزار دانشوروں‘‘ کی شرکت کے نئے اعتراض پر بھی کیا عرض کروں کہ آج کل ہر ترقی پسند پر اسلام بیزار ہونے کا شبہ ہوتا ہے، ویسے یہ ’’اسلامی سوشل میڈیا سمٹ‘‘ نہیں تھی، ’’اردو سوشل میڈیا سمٹ‘‘ تھی۔ لہٰذا مذہب کا شوشا رہنے ہی دیں۔

14 May 2015 at 00:09
Ammar Zia نے لکھا ہے

میں نے پہلے ہی ذکر کیا تھا کہ اگر ابلاغ میں زبان کا درست استعمال نہیں ہوگا تو میں کہوں گا کچھ اور آپ سمجھیں گے کچھ۔ لیکن آپ کا اصرار تھا کہ نہیں، ابلاغ ہوجاتا ہے، زبان کی درستی پر زور دینا درست نہیں۔ تو اب آپ جو میرے تبصرے میں لفظ ’’آپ‘‘ استعمال کرنے سے یہ سمجھے کہ یہ بالخصوص صرف آپ کی بات ہو رہی ہے اور آپ نے اس کے باعث مجھے ’’ذاتیات‘‘ پر اترنے کا الزام دیا تو بتائیے، یہ کیسی رہی؟
750 بلاگروں کی شرکت کا ذکر آپ نے کہاں پڑھا؟ میری معلومات میں اضافے کے لیے ربط دے دیں تو شکر گزار رہوں گا۔
اور ’سمٹ‘ کے انگریزی لفظ استعمال کرنے پر اعتراض کرنا تو سبحان اللہ۔ یہ جو آپ نے اپنے بلاگ پر ’’بلاگ‘‘ لکھ رکھا ہے، آپ کو اس کا کوئی اردو متبادل نہیں ملا تھا؟ ہم تو پھر بے ادب نوجوان ہیں، اردو کے بڑے بڑے نام اردو ’’کانفرنس‘‘ منعقد کرتے ہیں، انھیں تو لفظ کانفرنس کے استعمال پر اعتراض نہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اس کا نام ’’اردو سوشل میڈیا سمٹ‘‘ کی بجائے ’’جلسۂ اُردو سماجی ذرائع ابلاغ‘‘ رکھا ہوتا تو آج انگریزی الفاظ کے استعمال پر اعتراض کرنے والے اس بات پر اعتراض کر رہے ہوتے کہ معروف اصطلاحات کو اُردوانے کی کیا ضرورت تھی؟
چاہے ہم گدھے پر سوار ہوجائیں، چاہے گدھا ساتھ ہونے کے باوجود ہم پیدل چلتے رہیں، اور چاہے ہم گدھے کو اپنے اوپر ہی کیوں نہ سوار کرلیں، دنیا کا کام ہے باتیں بنانا، وہ بناتی رہے گی۔ تو خوب باتیں بنائیں، ہم اگلے سمٹ کی تیاری کرلیں۔

14 May 2015 at 00:11
Asad Aslam نے لکھا ہے

حکیم صاحب گزارش ہے کہ تھوڑا دل و دماغ کو وسیع کریں، بلاگنگ کو تنگ نظری سے نہ دیکھیں یہ بلاگستان اور سیارہ سے باہر نکل چکی ہے اور بہت پھل پھول چکی ہے۔

اوپر جو میں نے ربط پیش کیے ان میں سے ایک کاشف اور دوسری نعیم صاحب کی ہے۔ کاشف کو جانبدار کہہ لیں تو دوسرے صاحب تو غیر جانبدار ہی ہیں ناں؟ کہیں تو اور بھی ربط پیش کرسکتا ہوں جہاں تعریف و تنقید دونوں ہی کی گئی ہیں۔ نہ صرف تحریر بلکہ ویڈیو کی صورت میں بھی لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کی بھی حد متعین ہے لیکن اگر آپ اسے کسی تلقین کا محتاج نہیں سمجھتے تو یہ تمام تعلیم و تربیت بے کار ہوگی جو آپ نے یا میں نے حاصل کی۔ میں بھی بلاگنگ کو آزاد تصور کرتا ہوں، اسے قوائد و ضوابط کا پابند نہیں سمجھتا، لیکن کسی بھی غیر اخلاقی بات کی حمایت نہیں کرسکتا خصوصاً وہ جو معاشرے کے بگاڑ کا باعث ہو۔ بلاگنگ کے نام پر کوئی فحاشی کا اڈہ کھول لے تو اسے ضرور روکنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

آپ اپنے موقف پر قائم رہیئے، ہم تو صرف سمجھا ہی سکتے ہیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

14 May 2015 at 04:17
Asad Aslam نے لکھا ہے

رہی بات اصطلاحات کی تو عرض ہے کہ ہم اردو کو پسند کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انگریزی سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ایک عوامی اجتماع تھا جس کے عنوان کے لیے عام فہم الفاظ استعمال کیے گئے۔

بعض اوقات یہ ضروری بھی ہوتا ہے۔ مثلاً جب آپ کسی کو بلاگ کا ربط بتاتے ہیں تو یہ نہیں کہتے ہوں گے: تین ڈبلیو نقطہ حکیم خالد نقطہ ٹی کے۔ یا کہتے ہیں؟

14 May 2015 at 04:21
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

عامر بھائی ۔۔۔۔اساس پاکستان سے ہٹنا اور دین اسلام کو "شوشہ"سمجھنا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔۔۔۔پاکستانی اردو سیکولر نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔جب سیاست ۔۔۔۔دین سے جدا ہو کر "چنگیزی" ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔تو اردو ۔۔۔۔دین سے جدا ہو کر کیا گل کھلائے گی؟؟؟ اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔

14 May 2015 at 06:20
Hakeem Khalid نے لکھا ہے


750بلاگرز کی جگہ 750 افراد پڑھا جائے۔۔۔۔۔تصحیح کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو میں میں انگریزی اور دیگر الفاظ کے استعمال کے حوالہ سے اگر میں یہی وضاحت پیش کرتا تو شائد آپ کو قابل قبول نہ ہوتی۔۔۔۔تاہم مجھے اس سے اتفاق ہے۔۔۔۔
جب میں اتفاق کررہاہوں ۔۔۔۔۔۔اور آپ میرا ہی موقف بیان کررہے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔حکیم خالد کے"بلاگ"پر اعتراض خودکار طریقے سے ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غصہ انسانی صحت کےلئے نقصان دہ ہے۔۔۔علاوہ ازیں یہ عقل سے پیدل کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔۔۔جس سے گدھے کی سواری یا گدھے کو سوار یااس کے ہمراہ چلنے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔(ازراہ تفنن)۔۔۔اگر وقت ہو تو اس سلسلہ میں میری تحریر درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://archive.org/details/AngerTreatment

14 May 2015 at 06:23
Hakeem Khalid نے لکھا ہے

محمد اسد اسلم بھائی جان ۔۔۔۔۔۔۔اب آئینہ دیکھیں گے تو تصویر تو نظر آئے گی۔۔۔۔۔لیکن دوسروں کی نہین۔۔۔۔۔۔۔تنگ نظری سے آپ کو بھی کنارہ کش ہونا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔الفاظ کی چنگاریوں کی جگہ شیرینی بانٹنا ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سب احباب آہستہ آہستہ انہی باتوں کی طرف آ رہے ہیں جو کہ میرا موقف ہے۔۔۔۔۔۔کسی کے چینل ،اخباریا بلاگ پر جو پھبتیاں کسی جارہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ سب ان سے مبرۤاہیں ۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔

۔۔دین اسلام کی مثالیں تمام معاملات زندگی پر "فٹ" کی جا سکتی ہین۔۔۔۔۔۔۔شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔فرمایا ۔۔میرا وضو دیکھئے کہیں غلطی تو نہیں رہ گئی۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر۔۔۔۔ان صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی غلطی سدھاری۔۔۔۔۔۔۔

تو بعینہ ۔۔۔۔کچھ ماڈل بلاگز۔۔۔۔بتائیے۔۔۔۔۔۔۔جہاں اردو کا درست استعمال ہو رہا ہو۔۔۔(اگر نہیں ہیں تو بنائیے)۔۔۔۔یا سوشل میڈیا ۔۔میں۔۔ماڈل اسٹیٹس۔۔لگائیے۔۔ہمیں بھی اردو کا ادراک ہو۔۔۔۔۔۔

ہمیں بھی اردو سے پیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔گائے کے دودھ والی اردو سے۔۔۔۔۔۔۔گائے کے پیشاب والی اردو سے نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاان دونوں کو مکس کرکے ۔۔۔۔یعنی سیکولر اردو سے بھی نہین

اپنی ان باتوں کو ضرور بہ ضرور یاد رکھئے گا کہ"اظہار رائے کی آزادی کی بھی حد متعین ہے لیکن اگر آپ اسے کسی تلقین کا محتاج نہیں سمجھتے تو یہ تمام تعلیم و تربیت بے کار ہوگی جو آپ نے یا میں نے حاصل کی۔ میں بھی بلاگنگ کو آزاد تصور کرتا ہوں، اسے قوائد و ضوابط کا پابند نہیں سمجھتا، لیکن کسی بھی غیر اخلاقی بات کی حمایت نہیں کرسکتا خصوصاً وہ جو معاشرے کے بگاڑ کا باعث ہو۔ بلاگنگ کے نام پر کوئی فحاشی کا اڈہ کھول لے تو اسے ضرور روکنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔"۔

آپ درست کہہ رہے ہیں اور اس سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں خواہ بلاگنگ سے کی جارہی ہوں یا سوشل میڈیا سے۔۔۔۔۔۔۔۔اسے روکنے کی کوشش ۔۔۔۔اخلاق تو ہے ہی عین اسلام ہے۔۔۔۔۔۔

14 May 2015 at 07:06
Hakeem Khalid نے لکھا ہے


اردو میں در آئے عام فہم الفاظ قابل اعتراض نہین ہونا چاہئیں۔۔۔۔۔یہی تو میرا موقف ہے ۔۔۔۔۔بھائی جان

14 May 2015 at 07:08

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔